
تحریر: سید رضی عمادی
طوفان الاقصیٰ آپریشن کے صدمے اور شکست سے دوچار ہونے والی صیہونی حکومت نے اس شکست کی تلافی کے لیے فلسطینیوں کے قتل عام کا سہارا لیا ہے۔ طوفان الاقصیٰ آپریشن کو 12 دن گزر چکے ہیں۔ صیہونی حکومت جو اپنی 75 سالہ تاریخ کی سب سے بڑی شکست سے دوچار ہوئی ہے، اس نے 7 اکتوبر کو آپریشن کے پہلے دن غزہ پٹی کے خلاف اپنے ہمہ گیر حملے شروع کر دیئے۔ البتہ ان حملوں نے دو مسائل کو سب پر ظاہر کر دیا۔ ایک صیہونی حکومت کا اپنی تاریخ کی سب سے بڑی شکست کے سامنے پاگل پن کا مظاہرہ اور دوسرا فلسطینیوں کے قتل عام کے خلاف انسانی حقوق کے دعویداروں کی خاموشی۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق صیہونی حملوں کے نتیجے میں اب تک 2 ہزار 873 فلسطینی شہید اور 12 ہزار 500 سے زائد زخمی ہوچکے ہیں جبکہ شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں ہر لمحہ اضافہ ہو رہا ہے۔ شہداء اور زخمیوں میں 60 فیصد سے زائد بچے اور خواتین ہیں۔ روزانہ کی بمباری کی وجہ سے غزہ میں مکانات اور انفراسٹرکچر بالخصوص طبی مراکز اور ہسپتال تباہ ہو رہے ہیں۔صیہونی حکومت ان حملوں کو مغرب بالخصوص امریکہ کی ہری جھنڈی کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہے۔ یہ حکومت غزہ کے عوام کے خلاف جو کچھ کر رہی ہے، وہ نسل کشی کی واضح مثال ہے۔ اس حوالے سے بہت سے شواہد موجود ہیں۔ خواتین اور بچوں کا بڑے پیمانے پر قتل، اسپتالوں پر حملے، زخمیوں کو لے جانے کی اجازت نہ دینا، ادویات تک رسائی پر پابندی، اسکولوں، مساجد اور مذہبی مراکز پر حملے ان شواہد میں سے ہیں، جو جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور صیہونی حکومت کی طرف سے انسانیت کے خلاف جرائم کا واضح ارتکاب ہے۔
اسپین کی سماجی حقوق کے وزیر ایوان بلارا نے ان دنوں غزہ میں ہونے والے واقعات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ صیہونی حکومت نے غزہ کے باشندوں کو اجتماعی سزائیں دینا شروع کر دی ہیں۔ اسرائیل نے نہ صرف لاکھوں لوگوں کو بجلی، پانی اور خوراک سے محروم کر دیا ہے، بلکہ شہریوں پر بمباری بھی کر رہا ہے، جو کہ ایک اجتماعی سزا اور بین الاقوامی قانون کی خطرناک خلاف ورزی ہے۔ بلا شک و شبہ اسے جنگی جرم اور نسل کشی سمجھا جا سکتا ہے۔ ایرانی عدلیہ کے بین الاقوامی امور کے نائب اور ایران کے ہیومن رائٹس ہیڈ کوارٹر کے سکریٹری "کاظم غریب آبادی” نے بھی کہا ہے کہ ایک قومی، نسلی، مذہبی گروہ کے رکن کو قتل کرنا، انکے لئے زندگی کے مشکل حالات پیدا کرنا، اس کے تمام یا کچھ حصے کو تباہ کرنا، خوراک اور ادویات تک رسائی سے روکنا، اس گروہ کے ارکان کو شدید جسمانی یا ذہنی صدمہ پہنچانا، یہ تمام معاملات نسل کشی اور جنگی جرائم میں شامل ہیں۔
یہ جرائم ظاہر کرتے ہیں کہ صیہونی حکومت نے طوفان الاقصی میں شکست کی شدت کو کم کرنے کے لیے فلسطینیوں کے قتل عام کا سہارا لیا ہے۔ انسانی حقوق کا دعویٰ کرنے والی مغربی طاقتیں غزہ میں ہونے والی نسل کشی پر آنکھیں بند کیے ہوئے ہیں اور صرف طوفان الاقصیٰ میں صہیونیوں کے قتل کو ایک عظیم المیہ تصور کرتی ہیں۔ ایران میں جہاد اسلامی فلسطین کے نمائندے ناصر ابو شریف کا کہنا ہے کہ اسرائیل اب جو کچھ کر رہا ہے، وہ صرف قتل عام نہیں ہے، جس کی مغرب حمایت کرتا ہے، بلکہ یہ سب کچھ اخلاقی اور انسانی اقدار کا قتل عام بھی ہے۔
آج دنیا ایک قوم کو تباہ ہوتا دیکھ رہی ہے، آج انسانیت کے خلاف ہر قسم کے جرائم کا ارتکاب کیا جا رہا ہے، یہ سب ریکارڈ کیا جا رہا ہے، فلمایا جاتا ہے اور دنیا بھر میں براہ راست نشر کیا جاتا ہے۔ ان مناظر پر خاموشی جمہوریت کی تعریف کرنے والی حکومتوں کا فریب اور دوغلا پن ہے۔ یہ انسانیت کو شرمسار کرنے والے جنگی جرائم کا ارتکاب ہے، یہ ایسے عالم میں ہو رہا ہے کہ امریکی صدر صیہونی حکومت کا دفاع کر رہے ہیں۔


































