
لاہور (نیٹ نیوز) لاہور میں کورونا کی بگڑتی صورتحال کے پیش نظر مینجمنٹ کی علیحدہ موثر پالیسی مرتب کر لی گئی ہے۔ لاہور کو پیر سے دو ہفتوں کیلئے مکمل بند کرنے کی تجویز پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم وزیراعظم کل حتمی منظوری دیں گے۔ پنجاب حکومت کے ذرائع کے مطابق لاہور کی صورتحال کو مانیٹر کرنے کیلئے خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، صورتحال کو ایوان وزیراعلیٰ سے مانیٹر کیا جائے گا۔ ماہرین پر مشتمل گروپ کی سفارشات کی روشنی میں لاہور کیلئے علیحدہ ماڈل بنا لیا گیا۔ خصوصی کمیٹی نے پیر کے روز سے دو ہفتوں کے مکمل لاک ڈاؤن کی تجویز دی ہے، تاہم حتمی منظوری وزیراعظم کل دیں گے۔ جیو ٹیگنگ میں زیادہ کیسز اور متاثرہ علاقوں کی نشاندہی کی گئی ہے، ان علاقوں کو بند کیا جائے گا یا پابندیاں عائد کی جائے گی۔ علاوہ ازیں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے پیش نظر اسلام آباد کے مختلف علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد کے سیکٹر آئی ٹین ون، جی سیون ٹو، تھری اور غوری ٹاؤن میں کورونا کیس بڑھ رہے ہیں، اس کے علاوہ لوئی بھیر، جی ایٹ اور آئی ایٹ میں بھی کورونا کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈی سی کا کہنا ہے کہ کیسز کنٹرول نہ ہوئے اور ایس او پیز پر عمل نہ ہوا تو ان علاقوں میں مکمل لاک ڈاؤن کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیکٹر جی نائن ٹو اور تھری کے رہائشیوں کو 24 سے 36 گھنٹے دے رہے ہیں، ان علاقوں کے رہائشی کل رات تک راشن وغیرہ کے انتظامات کرلیں، سیکٹر جی نائن ٹو اور تھری میں مکمل لاک ڈاؤن ہوگا، صرف میڈیکل اسٹورز اور اشیائے ضروریہ کی دکانیں کھلی ہوں گی۔


































