
تحریر: ڈاکٹر سعداللہ زارعی
"غاصب صیہونی رژیم کے ساتھ گیس تنازعہ میں لبنان جو کچھ چاہتا تھا وہ سب حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے”۔ یہ حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل سید حسن نصراللہ کا وہ جملہ ہے جو انہوں نے گذشتہ ہفتے اپنی تقریر میں کہا۔ اس تقریر میں انہوں نے "کیرش” اور "قانا” میں آئل فیلڈز کی گذشتہ دس سالہ تاریخ پر بھی روشنی ڈالی۔ بحیرہ روم میں گیس کا مسئلہ جغرافیائی حدود خاص طور پر سمندری حدود سے جڑا ہوا ہے۔ لہذا اس خطے میں گیس کا موضوع جیوپولیٹیکل اور سرزمینی پہلو کا بھی حامل ہے۔ اس دوران غاصب صیہونی رژیم نے امریکہ کی بھرپور ہلہ شیری سے برخوردار ہوتے ہوئے اور لبنان میں سیاسی بحران اور حزب اللہ لبنان کی شام کے سکیورٹی مسائل میں مصروفیت سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر پر مکمل قبضہ کرنے کی ٹھان رکھی تھی۔
بحیرہ روم میں گیس اور تیل کے ذخائر سے مالا مال دو علاقوں "قانا” اور "کیرش” کا زیادہ تر حصہ لبنان کی سمندری حدود جبکہ کچھ حصہ لبنان اور مقبوضہ فلسطین کی مشترکہ حدود میں واقع ہے۔ ان علاقوں میں بحیرہ روم کے گیس اور تیل کے ذخائر کا بڑا حصہ پایا جاتا ہے۔ ان علاقوں کا تقریباً تین چوتھائی حصہ لبنان کی سمندری حدود جبکہ ایک چوتھائی حصہ مقبوضہ فلسطین کی سمندری حدود میں واقع ہے۔ اسرائیل کی غاصب صیہونی رژیم گمان کر رہی تھی کہ وہ طاقت کے زور پر اور لبنان کے اندرونی اختلافات کی آڑ میں اس گیس فیلڈ پر اپنا تسلط برقرار کر سکتی ہے اور یوں اس علاقے کو افریقی اور ایشیائی ممالک سے گیس کی تجارت کے مرکز میں تبدیل کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں بحیرہ روم پر بھی اس کا کنٹرول برقرار ہو سکتا ہے۔
غاصب صیہونی رژیم اس طریقے سے ایک طرف بحیرہ روم کے جنوبی اور مشرقی ساحل کے مغربی ممالک اور دوسری طرف یورپی ممالک کی اقتصادی سرگرمیوں پر اثرانداز ہو کر اپنی سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے درپے تھی۔ اگر اسرائیل کا یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس کی سکیورٹی اور استحکام، بحیرہ روم کے ساحلی ممالک اور حتی اس سے وسیع تر خطے کی اقتصادی سکیورٹی اور استحکام سے جڑ جاتا جس کے نتیجے میں یہ تمام ممالک اپنے مفادات کیلئے جعلی صیہونی رژیم کی سکیورٹی اور استحکام کو ضروری قرار دیتے۔ یوں ان ممالک نے فلسطینی مزاحمتی گروہوں سمیت ایسے تمام اقدامات اور عناصر کی مخالفت کرنی تھی جو اسرائیل کی سکیورٹی اور استحکام کیلئے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں۔ مزید برآں، صیہونی رژیم ان دو گیس فیلڈز پر مکمل قبضہ جمانے میں بھی کامیاب ہو جاتی۔
غاصب صیہونی رژیم مذکورہ بالا دو گیس فیلڈز پر قبضے کی صورت میں اقتصادی طور پر بھی خود کفیل ہو جاتی جبکہ اس وقت اس کی معیشت بیرونی امداد کی شدید محتاج ہے۔ یہ پہلو صیہونی رژیم کیلئے انتہائی درجہ اہم ہے لہذا گیس، گیس فیلڈ اور اس سے مربوط پالیسیاں غاصب صیہونی رژیم کیلئے حد درجہ اسٹریٹجک اور حساس تھیں اور وہ اس کے حصول کیلئے سر دھڑ کی بازی لگانے کیلئے تیار تھی۔ لیکن دوسری طرف کیرش اور قانا گیس فیلڈز اور گیس کا مسئلہ لبنان کیلئے غاصب صیہونی رژیم سے بھی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ کیونکہ ایک تو ان دو گیس فیلڈز پر اسرائیلی قبضہ بحیرہ روم میں اس کی پوزیشن مضبوط ہو جانے اور "اہم پوزیشن” حاصل کر لینے کا باعث بنتی تھی جو لبنان کے قومی مفادات، سکیورٹی اور سیاسی زندگی کیلئے شدید خطرہ تصور کیا جاتا تھا۔
جبکہ دوسری طرف لبنان اقتصادی انفرااسٹرکچر سے محروم ہونے، سیروسیاحت پر مشتمل گذشتہ اقتصادی پوزیشن میں شدید گراوٹ اور بیرونی مالی امداد میں انتہائی کمی کے باعث شدید اقتصادی اور مالی بحران سے روبرو ہے۔ اس وقت لبنان دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور فلاح و بہبود کی عمومی سروسز بھی بہت سی مشکلات کا شکار ہیں۔ لہذا قانا اور کیرش گیس فیلڈز نہ صرف لبنان کی معیشت بلکہ سیاسی مسائل کے حل، قومی ہم آہنگی اور سکیورٹی میں بہتری کیلئے امید کی کرن ہیں۔ یوں لبنانی حکام نے شدید اقتصادی حالات برداشت کرنے کے ساتھ ساتھ ان دو گیس فیلڈز سے گیس کے استخراج اور فروخت پر نظریں جما رکھی ہیں۔ یہ مسئلہ لبنان کیلئے اس حد تک اہم ہے کہ تقریباً ایک سال پہلے سید حسن نصراللہ نے اعلان کیا تھا کہ وہ حتی جنگ کا خطرہ مول لے کر ان دو گیس فیلڈز کا دفاع کریں گے اور دشمن کو جارحیت کی اجازت نہیں دیں گے۔
لبنان میں گیس کا مسئلہ 2011ء کے وسط میں اس وقت شروع ہوا جب عرب خطہ سیاسی تبدیلیوں کی لپیٹ میں تھا اور شام میں سکیورٹی بحران شروع ہو رہا تھا۔ ایسے حالات میں غاصب صیہونی رژیم نے اعلان کیا کہ وہ بحیرہ روم میں گیس کے ذخائر دریافت کر کے گیس نکالنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی طرح صیہونی حکام نے اس بات کا عندیہ بھی دیا تھا کہ وہ خفیہ طور پر یورپی کمپنیوں سے راس ناقورہ کے ساتھ والے علاقے سے تیل اور گیس نکالنے کیلئے مذاکرات میں مصروف ہیں۔ یہ سرگرمیاں جاری رہیں اور ایک یونانی برطانوی کمپنی نے 2015ء میں تیل اور گیس کے ذخائر کی تلاش کا آغاز کر دیا۔ اسرائیلی ذرائع کے بقول یہ تلاش پانچ برس تک جاری رہی اور اس مدت میں انہوں نے اس علاقے میں موجود ذخائر کی وسعت دریافت کر لی۔
۔۔۔۔۔


































