
پشاور: خیبرپختونخوا میں مختلف مکاتب فکر کے علماء نے دہشت گردانہ کارروائیوں کی بھرپور مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کیا ہے اور کہا ہے کہ حاکم وقت کے خلاف خروج بغاوت ہے، اسکے مرتکبین سزا کے مستحق ہیں خیبرپختونخوا کے علما نے اسلام آباد کے شرپسند مولوی کے حوالے سے واضح فتوی دیتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص کو انفرادی طور پر جہاد کے اعلان کا حق نہیں۔ جہاد کا اعلان صرف اسلامی ریاست کا ہے، اس حوالے سے احادیث نبوی ﷺ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسلامی ریاست کا دفاع کرنیوالوں کیخلاف اعلان جنگ ناجائز اور ریاست کی اطاعت کی خلاف ورزی ہے۔ قانون کی پاسداری سے گریز کرنا صریحاً ناجائز ہے۔علمائے کرام کے فتوے میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی جوان اور پولیس اہلکار پاکستان کی حفاظت کرتے ہوئے مارے جائیں تو شہید ہیں۔ اسلامی ریاست کےاندر فتنہ و فساد، محاذ آرائی اور فساد پھیلانا شریعت کی رو سے جائز نہیں۔ جو شخص ایسا کرے گا وہ دستور پاکستان سے بغاوت کا مرتکب اور سزا کا مستحق ہوگا۔علما نے اپنے فتوے میں مزید کہا ہے کہ جو گروہ بغاوت کر رہا ہو اس سے لڑو جب تک وہ اللہ کےحکم کی طرف واپس نہ آجائے۔


































