
اسلام آباد: کشمیر لیگل فورم نےعالمی برادری سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ فورم کے رہنماؤں نے بتایا کہ برطانوی پولیس کو بھارتی مظالم سے متعلق ڈوزیئر پیش کردیا ہے ۔ مقبوضہ کشمیرمیں جنگی جرائم کی تحقیقات پر اسلام آباد میں گول میز کانفرنس ہوئی جس میں لیگل فورم کشمیر کے مرکزی رہنماؤں نے بریفنگ دی۔ مقبوضہ کشمیر کے وکیل ناصر قادری ایڈوکیٹ نے بریفنگ میں بتایا کہ ضیاء مصطفی کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ ڈوزئیر میں 111 فرضی پولیس مقابلوں کا ذکر ہے جوسنہ 2000 سے 2021تک کیے گئے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضیاء مصطفے’ غلطی سے راولا کوٹ سے مقبوضہ کشمیر میں داخل ہوا تھا، اس کی عمر صرف پندرہ سال تھی جب اسے پکڑا گیا تھا ، اٹھارہ سال سے کم عمر بچے کو قانونی طور پر جیل میں قید نہیں کیا جاسکتا ۔کیس ٹرائل کورٹ شپیاں میں چلا جس میں 38گواہوں کو پیش کیا گیا ۔ پولیس ضیا کے خلاف کوئی بھی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی ، ہائی کورٹ نے بھی اپیل خارج کرکے ضیا کو معصوم قراردیا ،بعد ازاں سپریم کورٹ میں تاخیر سے اپیل دائر کی گئی ، اکتوبر میں سری نگر میں ضیا کو جعلی پولیس مقابلے میں شہید کردیا گیا۔ کشمیر لیگل فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل کررہی ہے ڈوزیئر میں جنگی جرائم پر بھارتی آرمی چیف اور وزیرداخلہ کی گرفتاری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ حریت رہنما مشعل ملک کہتی ہیں مودی سرکار مقبوضہ وادی میں منظم طریقے سے نسل کشی کررہی ہے۔


































