
اسلام آباد : پاکستان نے کرتارپور راہداری کے مبینہ طور پر کاروباری ملاقاتوں کے لیے استعمال سے متعلق انڈیا کے الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔وزارت خارجہ سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کرتارپور راہداری کا غلط استعمال نہیں کیا گیا ہے۔ یہ کرتارپور راہداری کے خلاف دانستہ مذموم مہم کا حصہ ہے جو پاکستان کے تاریخی اقدام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔امن کی راہداری کو نقصان پہنچانے کی انڈین کوشش کوئی نئی بات نہیں۔ انڈیا دنیا کی توجہ اقلیتوں باالخصوص مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی سنگین ناانصافیوں سے ہٹانا چاہتا ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان اقلیتوں کے حقوق کو اولین ترجیح دیتا ہے اور ملک میں ہر مذہب کے ماننے والوں اور مذہبی مقامات کے تقدس کو یقینی بنایا جاتا ہے۔پاکستان نے حال ہی میں انڈیا سے دو ہزار یاتریوں کی میزبانی کی ہے جو بیساکھی تہوار میں شرکت کے لیے آئے تھے۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا کرتارپور راہداری پر غلط بیانی سے باز رہے، یہ پاکستان کی حکومت کی جانب سے سکھ یاتریوں کے لیے ایک تحفہ تھا۔دفتر خارجہ نے کہا کہ انڈیا کو مذہبی اقلیتوں اور ان کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے بامعنی اقدامات کرنے چاہیے۔


































