
کراچی: امامیہ اسٹودنٹس آرگنائزیشن پاکستان کراچی ڈویژن کے زیر اہتمام نامنظور اسرائیل ریلی نکالی گئی۔ ریلی میں بچوں اور خواتین سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔ پاکستانیوں کے مسلسل صیہونی ریاست کے اعلانیہ دوروں اور ان پر حکومتی خاموشی کیخلاف نمائش تا کراچی پریس کلب تک ریلی نکالی گئی۔ ریلی کے شرکا سے خطاب میں مقررین کا کہنا تھا کہ مسلسل پے در پے پاکستانی وفود کی اسرائیل یاترا حکومت کی نا اہلی اور حکومت کے اسرائیل سے خفیہ روابط کی نشاندہی کرتا ہے، پاکستانی وفد کی جانب سے اسرائیل کا دورہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی سے کھلی بغاوت ہے۔ رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے اہم عہدے پر کام کرنے والے نسیم اشرف اور مشہور معروف ٹی وی چینلز سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کا اسرائیل کا دورہ پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانے اور پاکستان کے نظریاتی استحکام کے خلاف سازش کا حصہ ہے، حکومت ایسے تمام شہریوں کو گرفتار کرے اور ان کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے جنہوں نے ماضی اور حال میں غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کا دورہ کر چکے ہیں اور فلسطینی عوام کے قاتل صدر اور عہدیداروں سے ملاقات کی ہے۔ پاکستان میں جو عناصر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی باتیں کر رہے ہیں اور مسلسل اسرائیلی دورہ کر رہے ہیں انکو لگام دینا ہوگا، جس طرح کشمیر پاکستان کی شہہ رگ حیات ہے اسی طرح فلسطین امت مسلمہ کی شہہ رگ حیات ہے، پاکستانی شہریت رکھنے والے افراد کے صہونی ریاست کے دورہ حیران کن اور باعثِ تشویش ہیں اور مملکت پاکستان کے لیے نقصان دہ ہیں۔ پارلیمنٹ میں قانون پاس کیا جائے کہ جو بھی اسرائیل سے تعلقات بحالی کی بات کرے وہ قومی مجرم شمار کیا جائے گا۔ ریلی کے اختتام پر شرکاء ریلی نے امریکا، اسرائیل، ہندوستان اور برطانیہ کے پرچم نذر آتش کیے۔شرکاء ریلی سے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما مولانا غلام عباس مرکزی نائب امیر جماعت اسلامی اسد اللہ بھٹو، جمعیت علمائے پاکستان کے رہنما علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی، آئی ایس او کراچی کے صدر دیباج عابدی اور فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنماء ڈاکٹر صابر ابو مریم نے خطاب کیا۔


































