
کراچی: شہر قائد میں ایک ہفتے کے دوران دہشت گردی کی دوسری اور ایک ماہ میں تیسری بڑی واردات نے سیکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان لگادیا.شہر کے اہم تجارتی مرکز کھارادر میں دھماکا ہوا ہے، جس میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ 11 افراد زخمی ہوئے، دھماکے سے کئی موٹر سائیکلوں اور پولیس موبائل کو نقصان پہنچا دھماکا میمن مسجد کے نزدیک اقبال مارکیٹ کے قریب ہوا ہے، دھماکے میں کھارادر تھانے کی موبائل کو نشانہ بنایا گیا ہے، دھماکے سے کچھ دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔پولیس نے کہا کہ دھماکے میں پولیس وین کو نشانہ بنایا گیا تھا اور دھماکے کی جگہ پر ساری کپڑے کی دکانیں ہیں۔اداروں نے دھماکے میں مبینہ طور پر استعمال کی گئی موٹر سائیکل کاپتا لگالیا۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے موٹر سائیکل کے مالک کی تلاش میں گلستان جوہرمیں چھاپا مارا گیا ہے۔چھاپے میں معلوم ہوا کہ موٹرسائیکل کامالک پرویز رحمان چھ ماہ قبل انتقال کرگیا ہے، انتقال کے بعد موٹر سائیکل نوکر صابر کو دیدی تھی صابر کی گرفتاری کیلئے قریبی گوٹھ میں چھاپہ مارا گیا لیکن وہ چھاپے سے قبل ہی فرار ہوگیا اس کا فون نمبر بھی بند ہے۔بم دھماکے کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق آئی ای ڈی ڈیواٸس بم موٹر سائیکل سیٹ کے نیچے فریم میں نصب تھی،جسے ریموٹ کنٹرول ڈیواٸس کی مدد سے آپریٹ کیا گیا، بم کا مجموعی وزن تقریباً ساڑھے چار کلو گرام ہے، بم کے ساتھ تقریباً آدھا کلو بال بٸیرنگ بھی استعمال کیۓ گۓ۔دہشت گردوں کا ہدف پولیس موبائل تھی، بم کو اس وقت تباہ کیا گیا جب پولیس موبائل بم نصب موٹر سائیکل سے تقریباً ڈیڑھ قدم کے فاصلے پر تھی، رکشہ درمیان میں آنے سے موبائل بچ گئی. دھماکے سے پولیس موبائل، رکشہ اور 5 موٹر سائیکلوں کو نقصان پہنچا.


































