
تہران: ولی امر مسلمین آیت اللہ خامنہ ای اور نو منتخب صدر مسعود پیزشکیان نے حماس کے سربراہ اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر سخت ردعمل دیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای نے اسرائیل کو سخت سے سخت سزا کے لیے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسماعیل ہنیہ کی موت کا بدلہ لینا ایران پر فرض ہوگیا ہے۔ مجرم اور دہشت گرد صیہونی حکومت نے ہمارے عزیز مہمان کو اپنے گھر میں شہید اور ہمیں سوگوار کیا ہے ۔ لیکن اس نے اپنے لئے بھی سخت سزا کا راستہ ہموار کر لیا ہے ۔ شہید ہنیہ نے برسہا برس تک شرافت مندانہ مقابلے کے میدان میں اپنی گرانقدر جان اپنی ہتھیلی پر رکھی ۔ وہ شہادت کے لیے تیار تھے۔ وہ اپنی اولاد اور رشتے داروں کو بھی اس راستے میں قربان کر چکے تھے۔ انہیں خدا کے راستے میں اور بندگان خدا کی نجات کے لئے شہید ہونے کا مطلق خوف نہیں تھا، لیکن یہ تلخ اور تکلیف دہ واقعہ اسلامی جمہوریہ میں ہوا ہے اور ہم ان کے خون کا بدلہ لینے کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ میں ملت اسلامیہ، استقامتی محاذ، فلسطین کی شجاع اور سربلند قوم خصوصا شہید ہنیہ اور ان کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے ساتھی کے خاندان اور لواحقین کو تعزیت پیش کرتا ہوں اور ان کی بلندی درجات کے لئے اللہ تعالی سے دعا گو ہوں۔


































