پوری اردنی سرحد پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ہوگا،،فلسطینی پناہ گزینوں کو وطن واپسی کی اجازت نہیں ہوگی،سینچری ڈیل کے بعض اہم نکات سامنے آگئے
ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کیلئے دروازہ کھلا رکھے گی،فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے اسرائیل کی کڑی شرائط ماننا ہوں گی
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیاں اسرائیل کا حصہ ہوں گی، پوری اردنی سرحد پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ہوگا، غرب اردن کا 50 فی صدعلاقہ اسرائیل میں شامل کرلیا جائے گا،فلسطینی پناہ گزینوں کو وطن واپسی کی اجازت نہیں ہوگی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ سینچری ڈیل کے بعض اہم نکات سامنے آگئے،یہ نکات صدی ڈیل کا مسودہ تیار کرنے میں یا تو مدد دینے یا اسے پڑھنے والے سفارتخاروں سے بات چیت کے نتیجے میں سامنے آیا، میڈیا کے مطابق امریکی صدر سینچری ڈیل کے ذریعے اسرائیل کیلئے فلسطینی علاقوں پر ‘ڈی فیکٹو’ کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کی سیکیورٹی کیلئے اراضی کے الحاق کی حمایت کریں گے، دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ امریکی انتظامیہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کالونیوں کواسرائیل کا حصہ تسلیم کرے گی، سیکیورٹی کے نام پر اسرائیل کو وادی اردن پر تسلط قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی، غرب اردن کا 50 فی صد حصہ سیکیورٹی ضرورت کے نام پر اسرائیل میں شامل کیا جائے گا جبکہ باقی 50 فی صد پر فلسطینیوں کو اپنی خود مختار ریاست قائم کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کے لیے دروازہ کھلا رکھے گی لیکن یہ ریاست فلسطین اور اسرائیلی دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں قائم ہوسکے گی، فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فلسطینیوں کو اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنا، مشرقی یروشلم پر اسرائیل کی عملداری اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کو واپسی کی اجازت نہ دینے کی شرائط ماننا ہوں گی۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- سینچری ڈیل،فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ کرنے کا منصوبہ بے…
سینچری ڈیل،فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ کرنے کا منصوبہ بے نقاب،یہودی بستیاں جائز،رالقدس اسرائیلی ملکیت
-
Ilyas - جنوری 30, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 39
- 1 minute read


































