Fri Oct 09, 2026

مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ اسرائیلی ڈرون حملے اور فائرنگ، 4 فلسطینی شہید، 20 سے زائد زخمی

روزانہ کی خبریں

سینچری ڈیل،فلسطینیوں پر زمین مزید تنگ کرنے کا منصوبہ بے نقاب،یہودی بستیاں جائز،رالقدس اسرائیلی ملکیت

پوری اردنی سرحد پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ہوگا،،فلسطینی پناہ گزینوں کو وطن واپسی کی اجازت نہیں ہوگی،سینچری ڈیل کے بعض اہم نکات سامنے آگئے
ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کیلئے دروازہ کھلا رکھے گی،فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے اسرائیل کی کڑی شرائط ماننا ہوں گی
واشنگٹن (نیوز ڈیسک) مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیاں اسرائیل کا حصہ ہوں گی، پوری اردنی سرحد پر اسرائیل کا سیکیورٹی کنٹرول ہوگا، غرب اردن کا 50 فی صدعلاقہ اسرائیل میں شامل کرلیا جائے گا،فلسطینی پناہ گزینوں کو وطن واپسی کی اجازت نہیں ہوگی،امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجوزہ سینچری ڈیل کے بعض اہم نکات سامنے آگئے،یہ نکات صدی ڈیل کا مسودہ تیار کرنے میں یا تو مدد دینے یا اسے پڑھنے والے سفارتخاروں سے بات چیت کے نتیجے میں سامنے آیا، میڈیا کے مطابق امریکی صدر سینچری ڈیل کے ذریعے اسرائیل کیلئے فلسطینی علاقوں پر ‘ڈی فیکٹو’ کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ صہیونی ریاست کی سیکیورٹی کیلئے اراضی کے الحاق کی حمایت کریں گے، دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ امریکی انتظامیہ دریائے اردن کے مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی کالونیوں کواسرائیل کا حصہ تسلیم کرے گی، سیکیورٹی کے نام پر اسرائیل کو وادی اردن پر تسلط قائم کرنے کی اجازت دی جائے گی، غرب اردن کا 50 فی صد حصہ سیکیورٹی ضرورت کے نام پر اسرائیل میں شامل کیا جائے گا جبکہ باقی 50 فی صد پر فلسطینیوں کو اپنی خود مختار ریاست قائم کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے، ٹرمپ انتظامیہ فلسطینی ریاست کے قیام اور اسے تسلیم کرنے کے لیے دروازہ کھلا رکھے گی لیکن یہ ریاست فلسطین اور اسرائیلی دونوں فریقوں کے مابین مذاکرات کے نتیجے میں قائم ہوسکے گی، فلسطینی ریاست کے قیام کیلئے فلسطینیوں کو اسرائیل کو یہودی ریاست تسلیم کرنا، مشرقی یروشلم پر اسرائیل کی عملداری اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنا اور فلسطینی پناہ گزینوں کو واپسی کی اجازت نہ دینے کی شرائط ماننا ہوں گی۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular