
رام اللہ : فلسطین کی انسانی حقوق تنظیموں نے اسرائیلی عدالتی نظام کو فلسطینی اسیروں کی جبری گمشدگی کا سہولت کار قرار دیا ہے۔ فلسطینی قیدیوں کی سوسائٹی، قیدیوں کے امور کے کمیشن اور ادامیر قیدی سپورٹ اینڈ ہیومن رائٹس ایسوسی ایشن نے مشترکہ بیان میں جبری گمشدگی کیلئے اسرائیل کو جوابدہ ٹھہرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں سے ہزاروں فلسطینیوں کو گرفتار کیا ہے، اس کے باوجود اسرائیلی حکام حراست میں لیے گئے افراد کی صحیح تعداد بتانے سے انکاری ہیں۔ بیان میں اسرائیلی ہائی کورٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ غزہ سے حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کی شناخت ظاہر کرنے کے لیے عدالت سے متعدد اپیلوں کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ بیان میں کہاگیاہے کہ اقوام متحدہ کی تعریف کے تحت، جبری گمشدگی اس وقت ہوتی ہے جب افراد کو کسی ریاست یا اس کے ایجنٹوں کے ذریعے خفیہ طور پر حراست میں لیا جاتا ہے اور ان کے ٹھکانے کو پوشیدہ رکھا جاتا ہے۔


































