
جنیوا : بین الاقوامی فلاحی تنظیم سیو دی چلڈرن نے اسرائیل کے سزائے موت کے قانون کی مذمت کرتے ہوئے اسے فلسطینیوں خصوصاً بچوں کے حقوق کی مزید پامالی قراردیا ہے۔ سیو دی چلڈرن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ سے منظور کیا گیا سزائے موت کا قانون بچوں کے لیے کسی واضح استثنا کے بغیر ہے۔ تنظیم کے مطابق یہ اقدام پہلے سے موجود نظام میں فلسطینی بچوں کے ساتھ روا رکھے گئے امتیازی سلوک اور زیادتیوں کو مزید سنگین بنا دیتا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی بچوں سمیت کسی بھی بچے کو سزائے موت دینے کا تصور ناقابل قبول ہے۔ تنظیم نے اس قانون کو فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سیو دی چلڈرن نے زور دیا کہ بچوں کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی قوانین کا احترام کیا جانا چاہیے۔ دنیا کو اس بات کو قبول نہیں کرنا چاہیے کہ کسی بھی بچے کو سزائے موت جیسے حتمی انجام کا سامنا ہو۔


































