
تل ابیب : اسرائیلی فوجیوں نے غزہ میں شہریوں کے اندھا دھند قتل عام کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ غزہ کی پٹی میں خدمات انجام دینے والے فوجیوں، کیریئر افسران اور ریزروسٹ نے اسرائیلی اخبار ہاریٹز کو بتایا کہ کمانڈروں کو غزہ میں آپریشن کے غیرمعمولی اختیارات دئے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمانڈروں نے نیٹزارم کوریڈور میں غیر مسلح خواتین، بچوں اور مردوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔
رپورٹ میں ایک افسر کا حوالہ دیا گیا ہے جس نے ایک واقعہ کے بارے میں بتایا جس میں کمانڈر نے 200 جنگجو مارنے کا دعویٰ کیا تھا لیکن حقیقت میں صرف 10 حماس کے کارکن ہونے کی تصدیق ہوئی۔ فوجیوں نے اخبار کو بتایا کہ انہیں نیٹزارم میں کسی بھی داخل ہونے والے پر گولی چلانے کے قابل اعتراض احکامات ملے۔ کمانڈر نے ان سے کہا تھا کہ لائن کو عبور کرنے والا ہر فرد دہشت گرد ہے۔ کوئی استثناء نہیں، کوئی عام شہری نہیں۔
فوجیوں نے یہ بھی بتایا کہ ڈویژن کمانڈروں کو وسیع اختیارات ملے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ عمارتوں پر بمباری کر سکتے ہیں یا فضائی حملے شروع کر سکتے ہیں جن کے لیے پہلے فوج کے اعلیٰ افسران سے منظوری لینی پڑتی تھی۔


































