
بیروت : صیہونی فوج نے لبنانی دارالحکومت بیروت اور مضافاتی علاقوں میں اب تک کا سب سے بڑا حملہ کیا ہے۔ اسرائیل کے جنگی طیاروں نے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں بیروت۔ ضاحیہ اور دیگر مضافاتی علاقوں میں سات مقامات پر تیس سے زائد حملےکئے۔ حملوں میں گیس تنصیبات اور پیٹرولیم کے ذخائر کو نشانہ بنایا گیا جس سے بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی۔ بمباری سے پورا دارالحکومت دھماکوں سے گونج اٹھا، آگ اور بارود فضا میں بلند ہوتا میلوں دور تک دیکھا گیا۔ حملے سے کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ اسرائیلی فضائیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے حزب اللّٰہ کے اسلحہ ذخائر کو بھی نشانہ بنایا ہے اور لبنان کے ٹی وی المنار کا دفتر بھی تباہ کردیا ہے۔
حزب اللّٰہ نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیلی قصبہ کریات شمونہ پر راکٹ برسا دیے۔ تیس سے زیادہ راکٹوں کے اس حملے سے کئی مقامات پر آگ لگ گئی۔ حزب اللہ نے صیہونی فوج کی منارا بستی اور عدیسہ سے لبنان میں دراندازی کی کوشش ناکام بنادی۔ حزب اللہ کے مجاہدین نے العدیسہ کے مضافات میں اسرائیلی دشمن افواج کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی اور
مجاہدین نے لبیک یا نصراللہ پکارتے ہوئے فوجیوں پر ہلکی اور درمیانی مشین گنوں سے فائرنگ کی۔ جس سے بارودی سرنگیں پھٹ گئیں۔ جس کے نتیجے میں 15 فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے۔
العدیسہ میونسپل عمارت کے راستے سے دراندازی کی کوشش پر مجاہدین نے شدید مزاحمت کی ۔ جھڑپیں دو گھنٹوں سے زائد جاری رہیں، جس کے دوران دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا ہوا اور وہ پسپائی پر مجبور ہوئے۔ مارون الراس کے قریب عقبی راستے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرنے والے فوجیوں کو مجاہدین نے گائیڈڈ میزائل سے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ تباہ اور اس کا عملہ ہلاک اور زخمی ہوا۔


































