
نیویارک : اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک گروپ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل کو مسلح تنازعات میں شہریوں کے تحفظ کے قانونی ڈھانچے کو کمزور کرنے کی اپنی مہم کے نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔ ماہرین نے کہا کہ اسرائیل کو بارہا یاد دلایا ہے کہ بین الاقوامی انسانی قانون ایسے شہریوں اور مقامات کو تحفظ دیتا ہے جو براہ راست جنگ میں شریک نہ ہوں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداری کے بجائے اسرائیل نے کھلے عام بین الاقوامی قوانین کی بار بار خلاف ورزی کی ہے اور مقبوضہ فلسطینی سرزمین اور اس سے آگے شہریوں کو زیادہ سے زیادہ تکلیفیں پہنچائی ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ تل ابیب نے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا جن میں قتل، تشدد، جنسی تشدد۔ باربار جبری نقل مکانی اور شہری انفرااسٹرکچر پر اندھا دھند حملے شامل ہیں. ماہرین نےکہا کہ تعلیمی اداروں اور ثقافتی ورثے کی تباہی۔ بھوک کا بطور ہتھیار استعمال۔ صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور سہولیات کو نشانہ بنانا ۔انسانی امداد تک رسائی پر من مانی پابندیاں اور صحافیوں پر حملے بھی انسانیت کےخلاف جرائم کا حصہ ہیں۔


































