
نیویارک: اسرائیل دھمکیوں اور دباؤ کے باوجود اقوام متحدہ میں یوم نکبہ کی تقریب روکنے میں ناکام ہوگیا۔ شرکا نے اپنے خطاب میں غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال کو ایک اور نکبہ سے تعبیر کیا۔ اقوام متحدہ کے زیر اہتمام نکبہ کی 78 ویں برسی کی تقریب میں فلسطینی عوام کی 1948 کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کو یاد کیا گیا اور موجودہ صورتحال سے اس کے تسلسل کو جوڑا گیا۔ جنرل اسمبلی کی صدر اینا لینا بیئربوک نےکہا کہ نکبہ ایک ایسا تاریخی زخم ہے جو نسل در نسل منتقل ہو رہا ہے اور جس کا حقیقی حل صرف انصاف کے ذریعے ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا۔ ان کی زندگیاں اور روزگار تباہ ہوئے اور ایک پوری قوم بکھر گئی۔
اقوام متحدہ کے عہدیدار خالد خیاری نے بھی غزہ کی صورتحال کو شدید انسانی بحران قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے باوجود شہری مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ موجودہ جنگ بندی کمزور ہے اور خطے میں امن کی صورتحال اب بھی غیر مستحکم ہے۔


































