
بیروت : حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے کہا کہ اسرائیل نے اعلان جنگ کر دیا ہے، اب حزب اللہ انتقام لے گی اور غزہ کی حمایت بھی جاری رہے گی۔ اسرائیل نے عالمی قوانین اور انسانی حقوق کی دھجیاں اڑادی ہیں اور ساری سرخ لکیریں عبور کرلی ہیں۔ صیہونی دشمن نے پیغام رسانی کے ہزاروں آلات کو نشانہ بنایا اور تمام جنگی اصولوں اور ریڈلائنز کو عبور کیا جس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر ہزاروں لبنانی باشندوں کے قتل کی کوشش کی۔ کچھ دھماکے اسپتالوں، بازاروں، سڑکوں، گھروں اور ایسے مقامات پر ہوئے جہاں عام شہری تھے جن میں درجنوں افراد شہید ہوئے جن میں بچے بھی شامل تھے۔
انہوں نے کہا کہ ان دھماکوں میں ہزاروں افراد زخمی بھی ہوئے۔ حزب اللہ انسانیت کیخلاف جرائم ہرگز نہیں کرے گی۔ سید حسن نصر اللہ نے کہا کہ سرکاری اور غیر سرکاری چینلز کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے کہ حملہ کا مقصد لبنانی محاذ کو بند کرنا ہے، لیکن ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ لبنانی محاذ فلسطینیوں کی حمایت اور مزاحمت جاری رکھے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ ہم نیتن یاہو ، گالانت ، فوج اور صیہونیوں سے زور دے کر کہہ رہے ہیں کہ لبنانی محاذ، غزہ پٹی کے خلاف جنگ بند ہونے تک فلسطینی قوم کی حمایت جاری رکھے گا۔ حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ نے زور دیا کہ صیہونی حکومت کو لبنان میں حالیہ دہشت گردانہ کارروائیوں کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ انہوں نے صیہونیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تمہیں بھاری قیمت چکانی پڑے گی اور تم سے منصفانہ قصاص لیا جائے گا۔ وہ بھی ایسی جگہ سے جہاں کے بارے میں تم نے سوچا بھی نہیں ہو گا۔
حسن نصر اللہ نے کہاکہ لبنان میں شہدا اور ان کے لواحقین مبارکباد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے راہ حق میں استقامت دکھائی۔ جو کچھ ہوا اس نے نسل کشی کے عالمی قوانین کو چیلنج کیا ہے۔ لبنانی حکومت، وزارت صحت، شہری دفاع نے اسرائیلی دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے بھرپور کردار ادا کیا۔ ایران، عراق اور شام نے ہماری اخلاقی اور مادی مدد کی اور ہمارے زخموں پر مرہم رکھا۔


































