
تل ابیب: اسرائیل کی انٹیلی جنس دستاویز میں الزام لگایا گیا ہے کہ فلسطین میں کام کرنے والے اقوام متحدہ کے بعض اہلکار سات اکتوبر کو ہونے والے حملے کے موقع پر اغوا اور قتل کے واقعات میں شریک رہے، اسی دستاویز میں کئی ممالک پر زور دیا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کے زیرانتظام کام کرنے والی فلسطین کی امدادی ایجنسی کے لیے فنڈز روکے جائیں۔ دستاویز چھ صفحات پر مشمتل ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر فلسطین میں کام کرنے والے یونائیٹڈ نیشنز ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے 190 ملازمین، جن میں اساتذہ بھی شامل ہیں، حماس کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔ دستاویز میں 11 افراد کے نام اور تصاویر بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب فلسطین کی انتظامیہ نے غلط معلومات جاری کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد امدادی ادارے کو بدنام کرنا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ادارے نے کچھ افراد کو فارغ کر دیا ہے جبکہ مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔


































