
کراچی : سربراہ امت واحدہ پاکستان علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ لاپتہ شیعہ نوجوانوں کے بارے میں یہ پھیلایا جارہا ہے کہ اُن لوگوں کو ماردیا گیا ہے۔کیا یہ اتنا آسان ہے آپ کسی جوان کو اٹھالیں اور پھر اسے مار دیں؟ کراچی کے نشتر پارک میں یوم شہادت علی علیہ السلام کی مرکزی مجلس سے خطاب میں علامہ امین شہیدی نے کہا کہ اگر ایسا یے تو پھر ہر پاکستانی کا حق ہےکہ وہ ریاست کے گریبان میں ہاتھ ڈال کر اپنے جوان کے خون کا حساب مانگے۔ہمارے جوانوں کا خون اتنا سستا نہیں۔ہمارے جوانوں کو زینبیون میں شامل ہونے کے جرم میں لاپتہ کیا جاتا ہے۔ زینبیون نے شام میں لڑائی کس کے خلاف لڑی یہ کیوں نہیں بتایا جاتا؟۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پر الزام لگایا جاتا ہے کہ ہم ایران پرست ہیں، میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم ایران کو فالو نہیں کرتے ہم ایران میں موجود اسلام کو فالو کرتے ہیں۔کیا کوئی اور اسلامی نظام حکومت عالمی استعماری اور استکباری قوتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتا ہے۔


































