امریکی فوج القائم بیس ایک تقریب میں عسکری سازوسامان عراقی فوج کے حوالے کردے گی، قیارہ اور کرکوک کے فوجی اڈے بھی عراقی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ
فیصلہ عراقی حکومت سے بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر کیا گیا، سرکاری فوج پر حملے ناقابل قبول، مشترکہ کمان کا امریکی اتحاد سے ہر قسم کا تعاون ختم کرنے کا اعلان
بغداد (نیوزڈیسک) عوامی دباؤ اورمزاحمت کاروں کے حملوں میں اضافے کے بعد امریکا نے عراق میں اپنے زیر استعمال 8 میں سے 3 فوجی اڈے خالی کرنے کا فیصلہ کرلیا، امریکا نے یہ فیصلہ عراقی حکومت اور ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کیا،اکتوبر 2019کے بعد امریکی اڈوں پر 160راکٹ حملے ہوچکے ہیں، رپورٹ کے مطابق 3 فوجی اڈے خالی کرنے کا مطلب ہے کہ امریکا عراق میں اپنی موجودگی میں کمی کررہا ہے، عراق میں امریکا کے 5200فوجی موجود ہیں تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ تین اڈوں سے کتنے فوجیوں کو منتقل کیا جائے گا اور انہیں دوبارہ کہاں تعینات کیا جائے گا، القائم شہر میں فوجی اڈے پر اسی ہفتے ایک تقریب میں امریکی فوج عسکری سازوسامان عراقی فوج کے حوالے کردے گی، اس طرح شام کی سرحدکے نزدیک عراق میں امریکی فوجی موجودگی ختم ہوجائے گی، امریکا نے قیارہ اور کرکوک کے فوجی اڈے بھی عراقی فورسز کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے، قیارہ چھاؤنی کو موصل میں داعش کے خلاف آپریشن میں استعمال کیا جارہا تھا، ادھر عراقی فوج کی مشترکہ کمان نے امریکی اتحاد سے ہر قسم کا تعاون ختم کرنے کا اعلان کر دیا، ترجمان بریگیڈیئر یحی الخفاجی نے بتایا کہ ہم اپنے ملک کی سرکاری ملٹری فورس کے خلاف امریکی حملے کو مخاصمانہ سمجھتے ہیں، اس حملے کے بعد امریکی اتحاد کے ساتھ ہر قسم کا تعاون معطل کر دیا گیا ہے۔
- Home
- خبریں
- بین الاقوامی خبریں
- عراقی عوام کی مزاحمت،امریکا کا3چھاؤنیاں خالی کرنے کا فیصلہ
عراقی عوام کی مزاحمت،امریکا کا3چھاؤنیاں خالی کرنے کا فیصلہ
-
Ilyas - مارچ 18, 2020
- بین الاقوامی خبریں
- 15
- 0 minute read


































