
اس کا مطلب یہ ہوا کہ ماضی کے برعکس اس بار نئی کابینہ کی تشکیل بہت جلد مکمل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نئے وزیراعظم پارلیمنٹ میں منظوری کیلئے اپنی کابینہ پیش کرنے کیلئے تیار ہیں جبکہ دوسری طرف پارلیمنٹ میں موجود بڑی بڑی پارلیمانی پارٹیوں پر مشتمل حکومتی اتحاد پیش کردہ وزراء کے بارے میں بحث کرنے کیلئے بھی تیار ہے۔ لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہو گا کہ عراق میں نئی کابینہ کی تشکیل کا عمل پارلیمنٹ کے تعاون سے تیزی کے ساتھ اور پرامن طریقے سے انجام پانے میں کامیاب ہو جائے گا اور یوں ملک گذشتہ ایک برس سے جاری شدید سیاسی بحران سے باہر نکل آئے گا۔ نئی حکومت کی تشکیل کے بعد بنیادی اہمیت کے امور پر توجہ دی جائے گی جو اب تک مبہم سیاسی صورتحال کے باعث ہوا میں معلق پڑے ہیں۔
یہ مرحلہ بذات خود عراق کے سیاسی میدان میں امن اور استحکام کی واپسی کی مثبت علامت ہے اگرچہ ممکن ہے یہ امن و استحکام عارضی طور پر ہو کیونکہ اس بارے میں مقتدا صدر اور اس کے حامیوں کی جانب سے کچھ خدشات پائے جاتے ہیں۔ مقتدا صدر کے حامیوں نے اعلان کیا ہے وہ نئی تشکیل پانے والی عراقی کابینہ میں شامل نہیں ہوں گے لہذا اس طرح نہ صرف وہ نئی کابینہ کے تشکیل کیلئے جاری عمل سے باہر نکل گئے ہیں بلکہ انہوں نے مستقبل میں نئی حکومت کے خلاف مہم چلانے کیلئے بھی اپنا راستہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ 2019ء اور گذشتہ ایک برس میں رونما ہونے والے تلخ تجربات، خاص طور پر مقتدا صدر کے حامیوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر مسلحانہ حملے سے ڈیڑھ ماہ قبل کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقتدا صدر کے حامی اب بھی حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ممکن ہے وزیراعظم محمد شباع السودانی کی سربراہی میں نئی عراقی حکومت کو اس سے بھی زیادہ پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کرنا پڑے۔ نئے عراقی صدر عبداللطیف رشید کو متعارف کروانے کی تقریب میں سابق صدر برہم صالح کی عدم موجودگی سے بہت سی چہ میگوئیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کی غیر حاضری ممکن ہے شکست خوردہ شخص کا ذاتی ردعمل نہ ہو بلکہ ایسی پارٹی کا مشترکہ فیصلہ ہو جو عبداللطیف رشید کی کامیابی سے خوش نہیں ہے۔ اگرچہ برہم صالح اور عبداللطیف رشید دونوں کا تعلق کردستان قومی اتحاد پارٹی سے ہے لیکن برہم صالح کی گذشتہ کارکردگی ظاہر کرتی ہے کہ وہ عراق میں مغرب نواز شخصیت ثابت ہوئے اور مغرب کی جانب ان کے رجحانات غالب رہے تھے۔ اسی طرح انہوں نے حکومت مخالف احتجاج کے دوران واضح موقف بھی اختیار نہیں کیا تھا۔
دوسری طرف عبداللطیف رشید ماضی میں نوری مالکی کی کابینہ میں شامل رہے ہیں اور وہ عراق میں اسلامی مزاحمتی بلاک کے حامی جانے جاتے ہیں۔ یہ وہ چیز نہیں جو مغربی حکمرانون کو گوارا گزرے گی۔ خاص طور پر یہ کہ عبداللطیف رشید کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نوری مالکی اور خمیس الخنجر کو اپنے نائبین بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ امریکہ نے عراق میں نئے صدر اور وزیراعظم کے تعین کا خیرمقدم کیا ہے اور امریکی سفیر نے بھی السودانی سے ملاقات کی ہے لیکن اس بات پر توجہ ضروری ہے کہ اس سیاسی ظاہر کے پس پردہ امریکہ نئی عراقی حکومت کیلئے کیا منصوبے تیار کر رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ کو گذشتہ برس اکتوبر میں منعقدہ الیکشن کے نتائج سے مختلف نتیجے کی توقع تھی تاکہ عراق میں ایسی نئی حکومت برسراقتدار آئے جو اسلامی مزاحمتی گروہوں کو مکمل طور پر سیاسی کے میدان سے نکال باہر کر دے۔
لیکن عراق میں اسلامی مزاحمتی بلاک کی دو حامی شخصیات کا صدر اور وزیراعظم کے عہدوں پر آ جانے نے امریکی اہداف کو ناکام بنا دیا ہے۔ لہذا اب دیکھنا ہو گا کہ امریکہ ظاہری سیاسی سرگرمیوں سے ہٹ کر حقیقت میں نئی عراقی حکومت سے متعلق کیا پالیسی اختیار کرتا ہے۔ خاص طور پر یہ کہ نئے عراقی وزیراعظم ملک سے امریکی فوجیوں کے انخلاء اور شہید قاسم سلیمانی اور شہید ابومہدی المہندس کی ٹارگٹ کلنگ کی تحقیق آگے بڑھانے کیلئے پرعزم دکھائی دیتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں فتح اتحاد کے رکن حامد الموسوی نے بھی السومریہ ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے۔ عراق نے حال ہی میں اوپیک پلس کے اجلاس میں امریکہ مخالف فیصلے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہ تمام ایشوز نئی عراقی حکومت کے امریکہ سے تعلقات پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔


































