Fri Oct 09, 2026

طویل جنگ کیلئے اسلحے کی وافر پیداواری صلاحیت موجود ہے، ترجمان ایرانی وزارت دفاع مکہ معاہدہ ، سعودی عرب کا دفاع کیا جائے گا: ترجمان پاک فوج آبنائے ہرمز میں کسی بیرونی طاقت کو مداخلت کا حق نہیں، جنرل احمد وحیدی حالیہ جنگوں میں فورسز کا امن و امان قائم رکھنے میں کردار بے مثال رہا، ولی امر مسلمین ترکیہ کا فوجی دستے سعودیہ بھیجنے سے انکار، مکہ معاہدہ پارلیمنٹ میں لایا جائیگا، وزیرخارجہ انصار اللہ کے حملے میں سعودی طیارہ تباہ اسرائیل کو ایران پر ممکنہ حملے کیلئے تیار رہنے کی ہدایت ایران کے حملوں کے بعد امریکی فوج نے کویت کا اہم اڈہ خالی کر دیا بھارت پاکستان میں دہشت گردی کیلئے طالبان کی مدد کر رہا ہے: جواد اجمل شام کا سعودی عرب کی درخواست پر یمن میں فوج بھیجنے پر غور پیوٹن کا ایران کی تاریخی اور غیر معمولی ثابت قدمی کا خیرمقدم ایران کی لبنان میں جنگ کے متاثرین کیلئے حزب اللہ کو 20 کروڑ ڈالر کی امداد ڈی جی آئی ایس پی آر کی سعودی عرب میں فوجی تعیناتی کی تصدیق فرانس میں طلبہ مظاہرین پر پولیس تشدد، تہران میں فرانسیسی سفیر کی طلبی امام بارگاہ کی مبینہ بے حرمتی کا معاملہ، ایم ڈبلیو ایم کا ملوث عناصر کی گرفتاری کا مطالبہ

روزانہ کی خبریں

عراق میں 15امریکی چھاؤنیوں سے فوجیوں کا انخلاء، فوجی آپریشنز بھی بند

امریکی فوجیوں کا15فوجی اڈوں سے انخلا ء شروع، اربیل اور عین الاسد سے انخلا نہ کرنے پر زور،، فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا کی بھی انخلا کا شیڈول مرتب کرنے کی درخواست
امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ ختم کیا جائے،امریکا کے پا س دوسراکوئی راستہ نہیں،عراقی تنظیمیں،ٹرمپ کا عراقیوں سے انتقام، عراقی فوج کے فنڈ میں 30فیصد کٹوتی
بغداد /واشنگٹن(نیوزڈیسک) امریکا نے عراق کے 15 فوجی اڈوں سے انخلا شروع کردیا ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکی اور اتحادی افواج نے عراق میں اپنی تمام سرگرمیاں روک رکھی ہیں، فرانس، جرمنی اور آسٹریلیا نے مشترکہ خصوصی آپریشن کمان کو درخواست دی ہے کہ وہ ملک سے اپنی افواج کے انخلاء کا شیڈول مرتب کریں، عراقی پارلیمانی دفاعی کمیٹی کے صدر بدر الزیادی نے کہا کہ اگلی حکومت عراق سے امریکی فوجی انخلا کا شیڈول طے کرنے کی ذمہ دار ہے، چاہے غیر ملکی افواج کا مکمل انخلا ہو یا بعض فوجی اڈوں میں وہ موجود رہیں، خاص طور پر کردستان کے خطے میں، انہوں نے تصدیق کی کہ اس وقت اتحادی افواج کی عراقی سرزمین پر کوئی سرگرمی نہیں،مشرق وسطیٰ کیلئے امریکی فوجی کمانڈر جنرل میکنزکا خفیہ دورے پر عراق پہنچے اور عراقی حکام سے امریکی فوجی انخلا کے مطالبے پر تبادلہ خیال کیا،امریکی جنرل نے عین الاسد فوجی اڈے کا بھی دورہ کیا اور فوجیوں سے ملاقات کی، العربیہ ٹی وی کے مطابق اتحادی فورسز نے عراق میں تمام آپریشن اورتربیتی کام بند کردئیے ہیں اوراس کی تمام ترتوجہ فوجی انخلا پر ہے جس کی تیاری کی جارہی ہے، الجزیزہ نے بھی اتحادی فورسز سے متعلق خبر کی تصدیق کی ہے، عراقی پارلیمنٹ کے دفاعی کمیشن کے رکن علی الغانمی نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے بعض فوجی اڈوں سے انخلا کا عمل شروع کردیا ہے تاہم وہ اربیل اور عین الاسد فوجی اڈے سے انخلا نہ کرنے پر زور دے رہے ہیں، تاہم عراق کے عوام اور ارکان پارلیمنٹ امریکی فوجیوں کا مکمل انخلا چاہتے ہیں،ادھرکتائب حزب اللہ کے ترجمان محمد محی نے دوٹوک موقف اختیار کیا ہے کہ اگر امریکی حکام نے عراقی قوم کے فیصلے کے خلاف اپنی فوج کورکھنے پر اصرار کیا توکتائب حزب اللہ ان سے مقابلہ کرنے کی طاقت و توانائی رکھتی ہے، انہوں نے امریکا کے ساتھ سیکیورٹی معاہدہ ختم کرنے پرزور دیا اور کہاکہ مزاحمتی کمانڈروں کی شہادت کا بدلہ ضرور لیا جائیگا،عصائب اہل الحق کے سربراہ قیس الخزعلی نے کہا کہ امریکی فوجوں کو ملک سے باہر نکال دینے کا بل پوری طرح سے قومی جذبے کے تحت پاس کیا گیا ہے اور اب امریکا کے پاس اس کے سوا اور کوئی راستہ نہیں کہ وہ عراق سے اپنی فوجیں واپس بلالے،عراق سے انخلا کے مطالبہ پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتقامی کارروائیاں شروع کردی ہیں اور انہوں نے داعش کے خلاف جنگ کیلئے عراقی فورسز کو دئے جانے والے فنڈ میں 30 فیصد کٹوتی کردی ہے اور گذشتہ سال کے 90 کروڑ ڈالر کے برعکس آئندہ سال ساڑھے 64 کروڑ ڈالر ملیں گے۔

[DISPLAY_ULTIMATE_SOCIAL_ICONS]

مزید پڑھیے

Most Popular