
واشنگٹن : امریکا نے ایرانی عزم کے سامنے جھکتے ہوئے ٹرمپ دور میں عائد پابندیاں ہٹانا شروع کردی ہیں۔وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے ایران کی جوہری سرگرمیوں پر عائد پابندیوں میں چھوٹ کی دستاویز پر دستخط کیے ہیں۔ امریکی اقدام سے روس، چین اور یورپ کی ان کمپنیوں کے خلاف پابندیوں کا خطرہ ٹل گیا ہے جو 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کی غیر فوجی مقاصد کے لیے مدد کر رہی تھیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے کانگریس کو جاری نوٹس میں کہا ہے کہ یہ چھوٹ بات چیت کو آسان بنانے کے لیے دی گئی ہے، جس سے مشترکہ جامع پلان کے مطابق معاہدے کی جانب واپسی اور تعمیل میں مدد ملے گی اور ایران وعدوں کی پاسداری کی جانب واپس آئے گا۔ یہ چھوٹ ان تکنیکی بات چیت کی اجازت دینے کے لیے ضروری تھی جو مذاکرات کے لیے ضروری ہے۔اس کا مقصد معاہدے پر واپس جانا ہے جسے باضابطہ طور پر مشترکہ جامع پلان آف ایکشن کہا جاتا ہے۔ ایران نے مطالبہ کیا ہے کہ پابندیوں میں نرمی کرتے ہوئے ان تمام مراعات کو بحال کیا جائے جو معاہدے کی تعمیل کی صورت میں اس کے ساتھ کیے گئے تھے۔ٹرمپ انتظامیہ نے مئی 2020 میں اس چھوٹ کو منسوخ کر دیا تھا جس میں روسی، چینی اور یورپی کمپنیوں کو ایرانی جوہری مقامات پر عدم پھیلاؤ کی کارروائیاں کرنے کی اجازت تھی۔


































