
تحریر: چارلز ابی نادر (تجزیہ نگار المیادین)
ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس کی دفاعی اور فوجی طاقت میں ترقی کا آغاز ہوا جو اب تک جاری ہے۔ اب تک تہران اسی سرعت سے موثر انداز میں ان شعبوں میں ترقی کی جانب گامزن ہے۔ ابتدا سے ہی واضح تھا کہ ایران جدید فوجی صلاحیتوں اور ہتھیاروں کے حصول میں بھی اس ترقی کو برقرار رکھے گا۔ ایران کی فوجی صلاحیتوں اور طاقت میں یہ اضافہ اسے درپیش بے شمار رکاوٹوں اور مشکلات کے باوجود حاصل ہوا ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے خود کو درپیش ان تمام مشکلات اور چیلنجز پر قابو پا کر ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ اس کے سامنے سب سے پہلی بڑی مشکل عراق کی جانب سے اپنے خلاف شروع کی گئی جنگ تھی جو آٹھ برس تک جاری رہی۔ اس کے بعد والی مشکلات تہران کے خلاف انجام پانے والی شدید اقتصادی، تجارتی اور سیاسی پابندیاں تھیں۔
ایران کے خلاف جنگ میں عراق کو مغربی ممالک کی مکمل مدد اور حمایت حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ مغربی ایشیا کے بعض ممالک کی آشیرباد بھی حاصل تھی۔ وہ جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی جبکہ دوسری طرف ایران کے خلاف انجام پانے والا محاصرہ مختلف طریقوں اور ہتھکنڈوں کے ذریعے اب تک جاری ہے۔ گویا یہ جنگ ایران کے خلاف ایک ہمیشگی بین الاقوامی فیصلہ تھا اور تہران کا مستقل مقدر تھا۔ ایران نے خود کو اس صورتحال کے مطابق ڈھال لیا اور اس مقدر کی بنیاد پر قومی ہتھیاروں کی ساخت اور ترقی نیز فوجی طاقت میں اضافے پر توجہ مرکوز کر دی۔ تہران نے انقلاب کو نشانہ بنانے کیلئے مغربی، خاص طور پر امریکی حکمت عملی کا مقابلہ کرنے کیلئے اس طریقہ کار کو واحد اور ضروری راہ حل کے طور پر دیکھا اور اسے جاری رکھا۔
ایران بہت سے اہم فوجی ہتھیار اور مختلف اقسام کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیارے تیار کرنے میں کامیاب رہا۔ ان تمام ہتھیاروں کی افادیت پہلے جنگی مشقوں میں اور اس کے بعد بعض معرکوں میں ثابت ہو چکی ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایرانی ساختہ میزائل اور ڈرون طیارے جو خلیج فارس میں امریکیوں کے مقابلے میں بروئے کار لائے گئے یا مغربی ممالک کے بقول اس وقت یوکرین جنگ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ ایران نے عالمی سطح پر بھرپور فوجی صلاحیتوں کا مالک ہونے کے طور پر اپنا لوہا منوا لیا ہے جبکہ اس کے علاقائی یا مغربی دشمن کسی صورت میں اسے ماننے پر تیار نہیں ہیں۔ ایران کے یہ دشمن ممالک اس کی فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنے اور علاقائی سطح پر اس کا اثرورسوخ ختم کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگانے میں مصروف ہیں۔
ایسے حالات میں ایران نے اپنے دشمنوں پر نئی بجلی گرا دی اور ہائپرسونک میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے انہیں حیرت زدہ کر دیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ ایرانی ساختہ ہائپرسونک میزائل ان تمام خصوصیات اور قابلیتوں کا مالک ہے جو بڑی طاقتوں کے پاس موجود ہائپر سونک میزائل رکھتے ہیں۔ خود مغربی ممالک بھی زیادہ سے زیادہ تعداد میں اور مختلف ماڈلز میں اس قسم کے میزائل حاصل کرنے کیلئے آپس میں شدید مقابلہ بازی میں مصروف ہیں۔ موجودہ دور میں ہائپرسونک میزائل انتہائی اسٹریٹجک اہمیت کا حامل ہے اور مختلف شعبوں میں موثر واقع ہو سکتا ہے۔ اس کی اہم ترین قابلیت انتہائی تیز رفتار ہے جو مختلف ماڈلز میں مختلف ہوتی ہے اور آواز کی رفتار سے چند گنا زیادہ ہوتی ہے۔ جنگ کے میدان میں تیز رفتاری بہت اہم برتری سمجھی جاتی ہے۔
ایران کے تیار کردہ ہائپرسونک میزائل سے اس ملک کو پہنچنے والا ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ دشمن ممالک کے فضائی دفاعی نظام کو شکست دینے کے قابل ہو گیا ہے۔ اسی طرح ہائپرسونک میزائل سے انتہائی خطرناک بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کا بھی موثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ دو ایسے ہتھیار ہیں جو جدید جنگوں اور دفاعی میدان میں انتہائی درجہ اہمیت اور اثر رکھتے ہیں۔ ایران کی جانب سے ہائپرسونک میزائل کے کامیاب تجربے سے متعلق اہم ترین نکتہ یہ ہے کہ ایران اس قسم کے میزائل میں استعمال ہونے والی ٹیکنالوجی سے بھی عبور کر چکا ہے۔ ایران کے اس کامیاب تجربے سے مستقبل میں ممکنہ طور پر غاصب صیہونی رژیم یا امریکی فوجی اڈوں کے خلاف فوجی ٹکراو کا افق بھی بہت حد تک واضح ہو گیا ہے۔ یہ پہلو کئی لحاظ سے قابل غور ہے۔
ایران کے اس کامیاب تجربے کا سب سے پہلا پیغام اسرائیل کے نومنتخب وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کیلئے ہے۔ نیتن یاہو اور اس کی ایران کی شدید دشمن سیاسی جماعت کیلئے یہ پیغام وارننگ اور دھمکی پر مشتمل ہے۔ کیونکہ اس نئے میزائل میں اسرائیل کی تمام تر فضائی دفاعی صلاحیتوں کا مقابلہ کرنے کی قابلیت موجود ہے۔ اس کا دوسرا پیغام بین الاقوامی سطح پر امریکہ اور مشرقی طاقتوں چین اور روس کے درمیان جاری محاذ آرائی سے متعلق ہے۔ ایران کے اس کامیاب تجربے نے چین اور روس پر مبنی مشرقی بلاک کا پلڑا بھاری کر دیا ہے۔ ایران عالمی سطح پر جاری اس محاذ آرائی میں امریکہ کا ایک اصلی حریف جانا جاتا ہے۔ چین، روس اور ایران پر مشتمل مشرقی محاذ میں شامل ممالک نے امریکہ کا مقابلہ کرنے کیلئے اقتصادی، سیاسی، انٹیلی جنس اور میڈیا شعبوں میں باہمی تعاون کا عزم کر رکھا ہے۔


































