
تہران :ایران اور امریکا کے درمیان ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے اعلان کے امکانات کے باوجود تہران نے مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں بھی مکمل عسکری تیاری برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی فوجی ذرائع نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی جارحیت کی صورت میں امریکا اور اسرائیل کو مختلف نوعیت کے ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ ابتدائی مفاہمتی یادداشت سے متعلق اشاروں کے باوجود تہران نے مذاکرات کی ناکامی کے امکان کو بھی نظر انداز نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے جنگی طرز عمل اور ماضی کی کارروائیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایرانی مسلح افواج ہر وقت مکمل تیاری کی حالت میں رہتی ہیں۔ ایرانی ذرائع کے مطابق مذاکرات کی صورتحال سے قطع نظر دفاعی تیاریوں میں کوئی کمی نہیں کی گئی۔ خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق ایک فوجی ذریعے نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا نے دوبارہ کسی غلط اندازے کے تحت ایران کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو اسے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ذریعے کے مطابق ایران کی ممکنہ نئی حکمت عملی ماضی کی دو جنگی صورتحال سے مختلف ہوگی۔ ایرانی فوجی ذریعے نے دعویٰ کیا کہ آئندہ کسی بھی محاذ آرائی میں حکمت عملی، عسکری اہداف، حربی طریقوں اور استعمال ہونے والے سازو سامان میں نمایاں فرق ہوگا۔ ایران کی جانب سے یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ عالمی سطح پر ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔


































