
معاہدے کی پابندیوں اور حدود پر مزید عملدرآمد نہیں ہوگا، یورینیم افزودگی صلاحیت، تحقیق اور پیداوار پر عائد حدود کی پاسداری نہیں کی جائے گی،ایران کا اعلان
ایران ان تمام اقدامات کو واپس لے جو جوہری معاہدے کے مطابق نہیں،جرمنی،برطانیہ،فرانس،یورپی یونین نے ایرانی وزیر خارجہ کو مذاکرات کیلئے بلالیا
تہران/برسلز(نیوز ڈیسک) ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کی مزیدپاسداری نہ کرنیکااعلان کردیا، ایرانی کابینہ کے اجلاس کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اب عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری معاہدے کی پابندیوں پر مزید عمل درآمد نہیں کیا جائے گا،ایران نے جوہری معاہدے کو مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان نہیں کیا تاہم یہ کہا کہ اس معاہدے کی پابندیوں اور حدود پر اب مزید عمل درآمد نہیں ہوگا، یورینیم افزودگی کی صلاحیت، تحقیق اور پیداوار پر عائد حدود کی پاسداری نہیں کی جائے گی، تکنیکی ضروریات پوری کرنے کے لئے یورینیم کی افزودگی جاری رہے گی، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کیساتھ تعاون جاری رکھا جائیگا اور معاہدے کے ثمرات سے فائدہ حاصل کرنے کے بعداپنی ذمہ داری پوری کرنے کوتیارہیں، یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو ایٹمی معاملہ پر برسلز میں بات چیت کی دعوت دے دی، انھوں نے 2015 میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا،اُدھرجرمن چانسلر انگیلا مرکل، فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے ایک مشترکہ بیان میں ایران پر زور دیا کہ وہ ایسے اقدامات نہ کرے جو 2015 کے جوہری معاہدے کے خلاف ہوں، انہوں نے ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ ان تمام اقدامات کو واپس لے جو جوہری معاہدے کے مطابق نہیں۔


































