
اسلام آباد: سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا ہے. سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی سے منظور متنازع عدالتی اصلاحات کیخلاف درخواستوں کو منظور کرکے فوری سماعت شروع کردی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 8 رکنی بنچ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔ عدالتِ عظمیٰ نے اٹارنی جنرل پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو بھی نوٹس جاری کر دیا اور سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم پارلیمنٹ کی عزت کرتے ہیں، عدلیہ کی آزادی اہم معاملہ ہے، ممکن ہے کہ اس درخواست پر عدالتی معاون مقرر کریں، ہم آ ج کی سماعت کا آرڈر بعد میں جاری کریں گے، آئندہ ہفتے 4 ورکنگ ڈیز ہیں، ججز کے ساتھ مشاورت کروں گا کہ آئندہ سماعت کب ہوگی۔
چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہا کہ پاکستان بار کونسل اور سپریم کورٹ بار کو نوٹس جاری کریں گے، وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کریں گے۔ عدالت نے ریمارکس دیے ہیں کہ جائزہ لینا ہے آئینی خلاف ورزی تو نہیں ہوئی۔
حکومتی اتحاد نے لارجربنچ کو مسترد کرکے سخت اعتراضات کئے اور کہا کہ بل ابھی قانون نہیں بنا لیکن 8 رکنی بینچ بنا دیا گیا۔ وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ کسی کو یہ اختیار نہیں دیا جاسکتا کہ پارلیمان کو قانون سازی سے روکے۔ عدالتی اصلاحات بل پر کیس کا نہ وقت درست ہے نہ کیس چلایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح عجلت میں یہ مقدمہ مقرر کیا گیا اور یہ بینچ بنایا گیا، اس میں بھی بارہا پارلیمان اور سیاسی جماعتوں کی جانب سے اور بار کونسلز نے بھی مطالبہ دہرایا اور گزشتہ ایک برس سے کئی مواقع پر کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ساری صورت حال بہت الارمنگ ہے، موجودہ بل کو قبل از وقت ایک ’سلیکٹیو‘ بینچ کے سامنے لگانا، جس میں سینیارٹی کے تمام اصول نظرانداز کیے گئے ہیں اور دو سینئر ترین جج صاحبان اس میں نہیں ہیں۔


































