
کراچی: جعفریہ الائنس پاکستان نے سینیٹ میں منظور شدہ توہین صحابہؓ، اہلبیتؑ اور امہات المومنینؓ بل کو آئین اور انسانی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔ اپنے مشترکہ بیان میں علامہ محمد حسین مسعودی۔ علامہ باقر حسین زیدی اور دیگر نے کہا ہے کہ اس بل کو پیش کرنے کا مقصد پاکستان میں موجود متشدد و تکفیریت پسند طبقے کے ووٹ حاصل کرنے کی خواہش ہے، جو از خود مذہب کی توہین ہے، سینیٹ نے جو توہین صحابہؓ بل پاس کیا ہے اس سے ملک میں افراتفری پھیلے گی، متنازعہ بل ریاستی اداروں اور سیاسی جماعتوں میں موجود کالی بھیڑوں کی فرقہ وارانہ سوچ کا عکاس ہے جو ایک مرتبہ پھر وطن عزیز پاکستان کو فرقہ وارانہ نفرتوں کی جانب دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس اسلامی نظریاتی کونسل اور ملی یکجہتی کونسل جیسے ادارے موجود ہیں ان اداروں کو نظر انداز کرکے اس متنازعہ بل کی منظوری ملک میں فرقہ واریت کی آگ کو مزید ہوا دینے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کے عوامی شعور و بیداری سے خائف قوتیں فرقہ واریت کے نام پر تفرقے کو ہوا دے رہی ہیں۔ اگر بل پیش کرنیوالوں کی نیت میں صداقت ہوتی تو پیغام پاکستان کے نام سے جو دستاویز موجود ہے اسے قانون کا درجہ دلواتے، جس میں تمام مسالک کے بڑے علماء کرام کے دستخط موجود ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں بیٹھے حضرات ایک دفعہ بھی اس بل پر غور کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ انہوں نے کتنی سنگین غلطی کی ہے, رہنماؤں نے صدر مملکت سے اپیل کی کہ اس بل کو مسترد کریں چونکہ پاکستان کا آئین و قانون اور قائد و اقبال کے نظریات میں ایسے کسی بھی بل کی گنجائش نہیں ہے۔


































