
اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیے ہیں کہ لوگوں کی جبری گمشدگی کا ذمہ دار چیف ایگزیکٹو ہی ہوتا ہے۔ کیوں نہ سارے چیف ایگزیکٹوز پر آرٹیکل چھ لگادیں؟۔ آرٹیکل چھ لگا کر تمام متعلقہ چیف ایگزیکٹوز کا ٹرائل شروع کرا دیتے ہیں۔اسلام ہائی کورٹ میں صحافی بلاگر مدثر نارو کی بازیابی کے لیے دائر درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ یہاں کوئی احتساب نہیں ہے۔ ایک کمیشن بنا ہے فیملیز جاتی ہیں وہ تاریخ دے دیتے ہیں، یہاں ہزاروں لاپتہ افراد کی فیملیز ہیں ان کو سنبھالنے والا کوئی نہیں۔ یہاں کوئی ریاست کے اندر ریاست نہیں یہاں ایک آئین ہے قانون ہے۔ آج تک اس قسم کے کیسز میں کوئی تحقیقات نہیں ہو سکیں، ریاست اس کی ذمہ دار ہے اب یہ معاملہ ختم ہونا چاہیے ، دہشت گرد بھی ہو تو اس کو آپ بغیر کسی عدالتی کارروائی کے مار تو نہیں سکتے، کون طے کرے گا کہ یہ دہشت گرد ہے یا نہیں۔ کل کو ایس ایچ او کہے گا کہ دوسرا میرے خلاف بات کر رہا ہے اس کو اٹھا لو۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ وفاقی حکومت کے لیے مسئلہ یہ ہے کہ نیشنل سیکیورٹی کو بھی مدنظر رکھنا ہے، آرٹیکل 6کے تحت جن کو سزا ہو چکی ہم تو اس پر بھی عمل نہیں کرا سکے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ ہم اس پر پھر فیصلہ کر دیتے ہیں کہ جتنے چیف ایگزیکٹو گزرے یا ہیں ان کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ اٹارنی جنرل نے اعتراض اٹھایا کہ پھر صرف چیف ایگزیکٹو ہی کیوں سب کو ذمہ دار ہونا چاہیے، کچھ بیماریوں کا علاج صرف عدالتی فیصلوں سے نہیں ہوتا یہ ان میں سے ایک ہے۔ 10لاکھ افراد سڑکوں پر نکلیں تو لاپتہ ہونے کا سلسلہ رک جائےگا۔ ایران میں ایسے ہی یہ سلسلہ رکا تھا۔ ایسا کیس زندگی میں نہیں لڑا۔ وقت دیں عدالت کی ضرور معاونت کروں گا۔ سابق چیف ایگزیکٹو(مشرف) نے اپنی کتاب میں شہریوں کو لاپتہ کرنے کے جرم کا اعتراف کیا لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوا شہریوں کو لاپتہ کرنے پر آرٹیکل 6 کا مقدمہ بنتا ہے۔ ایک ہال آف شیم بنا دیتے ہیں جس میں سب چیف ایگزیکٹو کی تصاویر ہوں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا کہ اگر ریاست ہوتی اور ایگزیکٹو اپنا کردار ادا کرتی تو یہ بچہ یہاں نا آتا ، ریاست کی ذمہ داری ہے کہ جو یہ کر رہے ہیں ان کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے، اگر یہ جاری رہتا ہے تو پھر عدالت آرٹیکل چھ میں چیف ایگزیکٹوز کو رکھے گی، یہاں اسلام آباد سے ایک آدمی کو اٹھایا گیا اس نے بعد میں کہا میں شمالی علاقہ جات سیر کے لیے گیا تھا، آپ عدالت کی معاونت کریں ہم اس پر فیصلہ کردیں ، یہ تاثر ہے کہ یہ ریاست کی پالیسی ہے، عدالت اس کو نہیں مانتی کہ ریاست کے اندر ریاست ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ میڈیا آزاد ہے یا نہیں؟ ورنہ مسنگ پرسنز کی تصاویر صفحہ اوّل پر ہوں، یا تو چیف ایگزیکٹوز ذمہ داری لیں، یا پھر ان کو ذمہ دار ٹھہرائیں جو ان کے تابع ہیں۔


































