
اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، بھارت غیر ذمہ دارانہ بیانات کے ذریعے مقبوضہ کشمیر سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ میں بتایا کہ بھارت غیرذمہ دارانہ بیانات سے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے توجہ ہٹانا چاہتا ہے، کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں میں کشمیر کے عوام سے حق خودارادیت کا وعدہ کیا گیا، کشمیر سے متعلق بھارتی بیانات کی کوئی وقعت ہے نہ کوئی جواز ہے۔
بھارتی وزیر پانی سی آر پٹیل کی جانب سے پاکستان کی طرف ایک قطرہ بھی پانی نہ پہنچنے دینے کے بیان پر دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ہم اس بیان کو مسترد کرتے ہیں، ایسے اقدامات جنوبی ایشیا کے امن کو خطرے میں ڈال دیں گے، ایسے اقدامات سے پیدا ہونے والے صورتحال کا ذمہ دار ہندوستان ہوگا، پاکستان تمام ضروری اقدامات اٹھائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ صومالیہ میں پاکستانی شہری تقریباً 50 روز سے قزاقوں کے قبضے میں ہیں، جن کی رہائی کے لیے حکومت پاکستان تمام ممکنہ سفارتی اور ادارہ جاتی سطح پر کوششیں کر رہی ہے، تاہم صورتحال انتہائی پیچیدہ ہونے کے باعث اب تک پیش رفت محدود رہی ہے۔ ترجمان کے مطابق یرغمال پاکستانی شہری ایک کارگو جہاز پر موجود ہیں، جن کے ساتھ دیگر ممالک کے عملے کے ارکان بھی شامل ہیں، حکومت پاکستان مسلسل اس معاملے پر صومالی حکام، مقامی فریقین اور جہاز کے مالک سے رابطے میں ہے تاکہ یرغمالیوں کی جلد از جلد بحفاظت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کریں اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کریں۔


































