
نئی دہلی : ہندوستانی سپریم کورٹ نے اسرائیل کو ہتھیاروں کی برآمد روکنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس ڈی وائی چندرچو ڑ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کی۔ عدالت نے کہا کہ وہ خارجہ پالیسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ اسرائیل کو اسلحہ اور فوجی ساز و سامان برآمد کرنے والی ہندوستانی فرموں کو معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے اور اس لیے انہیں سپلائی کے وعدوں کو پورا کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ عدالت نے مزید کہا کہ ہم ملک کی خارجہ پالیسی کے دائرہ کار میں داخل نہیں ہو سکتے۔ چیف جسٹس چندرچوڑ نے ریمارکس دئے کہ کیا ہم اقوام متحدہ کے نسل کشی کنونشن کے تحت یہ ہدایت کرسکتے ہیں کہ آپ اسرائیل کو اسلحہ برآمد پر پابندی لگادیں؟ یہ پابندی کیوں؟۔ اس کا اثر خارجہ پالیسی پر پڑتا ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس کا کیا اثر پڑے گا۔


































