
لاہور : سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ وہ کسی سے لڑائی نہیں بلکہ ایسی آزاد خارجہ پالیسی چاہتے ہیں جو پاکستان اور عوام کے مفاد میں ہو ۔ عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ماضی میں امریکا سے ہمارا رشتہ ہمیشہ آقا اور غلام کا رہا۔ اس میں زیادہ قصور امریکا کا نہیں پاکستانی حکومتوں کا تھا۔ ہم امریکا سے ہندوستان والی خارجہ پالیسی چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی چیئرمین نے حکومت کی جانب سے پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کے الزام کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ شہباز حکومت نے 7 ماہ میں عالمی سطح پر پاکستان کا کوئی فائدہ نہیں کروایا۔ مجھے انگلینڈ کے دورے کی دو بار دعوت ملی جبکہ میرے بچے بھی وہاں تھے، مگر میرے ملک کا فائدہ نہیں تھا اس لیے پیش کش کو مسترد کردیا۔عمران خان نے ایک بار پھر کہا کہ ملک کے تمام مسائل کا حل صاف اور شفاف الیکشن ہیں جبکہ لندن میں بیٹھا شخص اس کی حمایت میں نہیں کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اگر انتخابات ہوئے تو پی ڈی ایم کو شکست ہوگی۔


































