
پشاور: خیبر پختونخواہ میں جماعت چہارم کی اسلامیات کی کتاب میں گستاخانہ اور انتہائی متنازعہ مواد کی اشاعت اور اس پر صوبائی حکومت کے ایکشن نہ لینے پر پشاور میں جامعہ شہید عارف الحسینی میں علمائے کرام، شیعہ تنظیموں کے رہنماؤں اور اکابرین کا اجلاس ہوا۔ یہ اجلاس سابق سینیٹر علامہ سید جواد حسین ہادی کی زیرصدارت ہوا، جس میں پشاور کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، پاراچنار،ایبٹ آباد، ہری پور،مانسہرہ، کوہاٹ، ہنگو، اورکزئی، نوشہرہ مردان اور دیگر اضلاع سے علماء کرام اور مختلف قومی و مقامی شیعہ تنظیموں کے نمائندوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ اجلاس میں متنازعہ و گستاخانہ نصاب تعلیم پر شرکائے اجتماع نے کھل کر اپنا اپنا موقف بیان کیا۔اور موقف اپنایا کہ اسلامیات کی کتاب میں نکاح خوان رسول اللہ (ص)، حضرت ابو طالب علیہ السلام کی شان میں گستاخی اور انکی تکفیر کے گھناؤنے فعل کے مجرموں کو فوری گرفتار اور متنازعہ کتب ضبط کیا جائے۔ علمائے کرام نے حضرت ابو طالب علیہ السلام کی شان میں گستاخی پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مملکت خداد پاکستان میں اہلبیت اطہارؑ، امہات المومنین اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم سمیت شعار اللہ کی شان میں گستاخیاں اور ان کی تضحیک معمول کا عمل بن چکی ہیں، سوشل میڈیا کے ذریعے نماز، روزہ اور حج عمرہ سمیت مقدس عبادات کا مذاق اڑایا جارہا ہے، ہم یہ سمجھنے میں برحق ہیں کہ یہ سب کچھ نادانستہ طور پر نہیں ہو رہا بلکہ یہ مذموم کام ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت ہو ریا ہے جس کے پیچھے ایک باقاعدہ لابی ہے۔بصورت دیگر ملک بھر میں احتجاج کی کال دی جائے گی، جس کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی۔ اس مرحلے پر ہمارا بنیادی مطالبہ ہے کہ تمام نصابی کمیٹیوں میں ملت جعفریہ کو نمائندگی دی جائے تاکہ آئندہ اختلافی مسائل سے بچا جاسکے، سرکاری سطح پر لازمی طور پر شیعہ نمائندگی ہونی چاہیئے، اسی طرح قومی سطح پر اعلیٰ ماہرین کی جائزہ کمیٹی قائم کی جائے۔


































