
نئی دہلی : بھارت میں حکومت نے وقف ترمیمی بل لوک سبھا میں پیش کردیا جس پر ایوان مچھلی بازار بن گیا۔ بل کے تحت وقف بورڈ کا درگاہوں۔ مساجد اور دیگر ملکیتی مقامات پر اختیار ختم ہوجائے گا اور یہ تمام اراضی حکومتی ملکیت قرار پائیں گی۔مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور کرن رجیجو نے بل ایوان میں پیش کیا جس میں 1995 اور 2013 کے وقف قوانین میں چالیس ترمیم کی گئی ہیں۔ بل میں کہا گیا ہے کہ وقف بورڈ کے کسی بھی جائیداد کو وقف جائیداد کے طور پر نامزد کرنے کے اختیار کو محدود کردیا گیا ہے۔ جبکہ وقف بورڈ کے ذریعہ جائیدادوں پر کئے گئے تمام دعووں کی لازمی تصدیق کی جائے گی۔ بل میں بوہرہ اور آغا خانی طبقہ کے لیے علیحدہ بورڈ بنانے کا راستہ ہموار ہوگا۔ اسے ’بوہرہ وقف‘ اور ’آغا خانی وقف‘ نام دیا گیا ہے۔ کانگریس، سماج وادی پارٹی، اے آئی ایم آئی ایم، ترنمول کانگریس سمیت حزب اختلاف کی تمام جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے بل کی مخالفت کی۔ اور اسے آئین۔ ملک مخالف اور مسلم مخالف قرار دیا۔ آل انڈیا مجلس اتحاد السملیمن کے صدر اسد الدین اویسی نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہاکہ وقف ترمیمی بل 2024 کے ذریعے حکومت درگاہ اور دیگر ملکیتوں پر قبضہ کرنا چاہتی ہے یہ بل اس کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت مسلمانوں کی دشمن ہے ۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ غیر مسلم کو وقف کونسل کا حصہ بنانا مذہب کی آزادی کے حقوق پر حملہ ہے۔ کیا کوئی غیر ہندو ایودھیا مندر بورڈ کا حصہ بن سکتا ہے؟۔


































