
تہران: ولی امرمسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے ایران میں حالیہ فسادات کے دوران دشمنوں کے اندازوں کی غلطی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاہےکہ دشمن نے ایرانیوں کے احتجاج کی آڑ میں حکومت کا تختہ الٹنے اور اسلامی جمہوریہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کی ناکام کوشش کی۔تہران میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے یوم ولادت پرے شعراء اور منقبت خوانوں سے خطاب کرتے ہوئے ولی امر مسلمین نے کہاکہ دشمنوں نے تصور کیا کہ ایرانی قوم اپنے اقتصادی مسائل کی وجہ سے ان کی بغاوت اور علیحدگی کے منصوبے کی حمایت کرے گی۔دشمن سوچ رہے تھے کہ گالیاں دے کر، برا بھلا کہہ کر اور اہانت کرکے وہ ملک کے عہدیداروں کو پسپائی اختیار کرنے اور میدان سے ہٹ جانے پر مجبور کردیں گے، وہ سوچ رہے تھے کہ وسوسے ڈال کر اور ہنگامہ مچا کر ملک کے اعلیٰ رتبہ عہدیداروں کے درمیان اختلاف پیدا کر دیں گے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے مزید کہا کہ وہ لوگ سوچ رہے تھے کہ امریکا کے پٹھو فلاں ملک کے پیٹرو ڈالرز سے وہ اسلامی جمہوریہ کے عزم کو متاثر کرسکتے ہیں، وہ سوچ رہے تھے کہ کچھ ضمیر فروش افراد کو کسی ملک میں پناہ کا لالچ دینے اور ایران کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کرنے سے ہمارے نوجوان مایوس ہوجائيں گے، یہ ان کی غلط فہمی تھی کیوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا عزم و ارادہ، ان کی طاقت کے تمام عناصر سے زیادہ مضبوط اور راسخ تھا۔ انہوں نے کہا کہ چالیس سال ہوگئے کہ وہ لوگ ہر ممکن طریقے سے اسلامی جمہوریہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن چونکہ ان کے اندازے غلط تھے اور اب بھی ہیں، اس لئے اب تک انہیں شکست کا ہی منہ دیکھنا پڑا ہے اور مستقبل میں بھی وہ شکست کھاتے رہیں گے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے کہا کہ ملک میں مختلف طرح کی آراء اور نظریات پائے جاتے ہیں لیکن اسلام، نظام اور انقلاب کے بارے میں عوام کے درمیان اتفاق رائے پایا جاتا ہے، ہمیں اس اتفاق رائے اور وحدت کو ختم نہیں ہونے دینا چاہیئے اور قومیتی و مذہبی اختلافات اور ایک گروہ کے خلاف دوسرے گروہ کے جذبات کو بھڑکانے میں مدد نہیں کرنی چاہیئے۔


































