
لندن : برطانیہ کے ساحلی شہر ساؤتھ پورٹ میں تین نوجوان لڑکیوں کے قتل کے خلاف مسلم اور تارکین وطن مخالف پُرتشدد مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے ہیں۔
برطانیہ کے شہر ہل، لیورپول، برسٹل، مانچسٹر، اسٹوک آن ٹرینٹ، بلیک پول اور بیلفاسٹ سمیت کئی شہروں اور دیہات میں انتہائی دائیں بازو کے گروہوں نے پُرتشدد مظاہرے کئے۔ امیگریشن مخالف مظاہرین اور نسل پرستی کے مخالفین آمنے سامنے آ گئے اور ایک دوسرے پر اینٹیں اور بوتلیں برسائیں۔ دکانوں میں توڑ پھوڑ اور لوٹ مار کی گئی۔ پولیس سے جھڑپوں میں اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے۔ پولیس پر آتشی مادہ بھی پھینکا گیا۔ بیلفاسٹ میں ایک عمارت اور گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ پولیس نے پرتشدد مظاہروں، چوری اور املاک کے نقصان کے جرائم میں 90 سے زائد افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے تشدد کی لہر پر دائیں بازو‘ کی مذمت کی ہے۔ وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ ان کی حکومت پولیس کو نفرت کے بیج بونے کی کوشش کرنے والے انتہا پسندوں کے خلاف کارروائی کے لیے بھرپور حمایت فراہم کرے گی۔
واضح رہے کہ ڈانس کلب پر حملے کے الزام میں ایک 17 سالہ لڑکے کو گرفتار کیا گیا تھا جس کے بعد پولیس کے اسسٹنٹ چیف کانسٹیبل ایلکس گوس نے کہا تھا کہ ’پولیس کی زیرحراست نوجوان کے بارے میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں اور کچھ لوگ اس واقعے کو غلط رنگ دے کر سڑکوں اور گلیوں میں تشدد اور انتشار پھیلا رہے ہیں۔‘’ہم نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ یہ شخص برطانیہ میں پیدا ہوا تھا۔ ملزم کے بارے میں قیاس آرائیاں کرنے سے کسی کی مدد نہیں ہوگی۔‘
ساؤتھ پورٹ میں ہونے والے حملے میں چھ سالہ بیبی کنگ، سات سالہ ایلسی ڈوٹ اور نو سالہ ایلس ڈاسلوا ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس واقعے میں آٹھ بچے زخمی بھی ہوئے تھے جن میں سے پانچ کی حالت نازک بتائی گئی جبکہ پولیس کے مطابق حملے میں دو بالغ افراد کو بھی شدید زخم آئے تھے۔
پولیس نے اس واقعے کی تفصیلات کے بارے میں بتایا ہے کہ ڈانس اسکول میں بچوں کی تقریب جاری تھی جس کے دوران ایک شخص چھری کے ساتھ عمارت میں گھسا اور اندر موجود لوگوں پر حملہ کر دیا۔


































