
شہید قائد علامہ عارف الحسینی سے قرب رکھنے والی شخصیات کے تاثرات
ترتیب و تنظیم: علی ناصر الحسینی
انٹرویو مولانا عبدالقدوس
اعوذباللہ من شیطان الرجیم
میرا نام عبدالقدوس ہے، میں جماعت اسلامی کا پرانا کارکن رہ چکا ہوں اور مختلف مواقع پر جماعت اسلامی کی امارت کے عہدہ پر رہ چکا ہوں۔ کچھ ایسا وقت بھی آیا تھا کہ اہلسنت میں جو باہمی اختلافات تھے، اس کی وجہ سے کافی پریشان تھا، مختلف مسائل میں اختلافات، سرسری طور پر مثال کے طور پر نماز میں ہاتھ باندھنے کا تعلق ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ ناف پر، کوئی کہتا ہے کہ ناف کے اوپر، کوئی کہتا ہے کہ ناف کے نیچے ہے۔ پھر متنازع مسئلہ ہے کہ آیا نماز ہاتھ کھول کر پڑھی جائے۔ دعائے قنوت کا پھر مسئلہ ہے کہ آیا یہ ہاتھ کھول کر پڑھی جائے یا ہاتھ باندھے پڑھی جائے یا کوئی کہتا ہے کہ بالکل نہ پڑھیں۔ ایک اور مسئلہ خون بہنے اور شکر کرنے بدون وضو، نماز پڑھنا کفر کے مترادف ہے، کوئی کہتا ہے کہ نہیں کفر نہیں ہے اور دوسری بات طلاق کے متعلق۔ کچھ سنی کہتے ہیں کہ اگر تین مرتبہ طلاق کہا جائے تو طلاق ہو جاتی ہے اور دوسرا مؤلف گروہ اس کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اگر بیس مرتبہ بھی طلاق ایک وقت کہی جائے تو وہ ایک دفعہ حساب ہوگی اور کچھ رسول اللہ کا قول نقل کرتے ہیں کہ ایک ماہ ایک طلاق دیں۔
اس طرح قرآن کے متعلق کچھ اور قرآن کے شان نزول سے متعلق بھی کافی مسائل تھے اور رد و تردید کا مسئلہ اس میں جاری تھا کہ اس میں راویوں کے بارے میں مسائل کہ آیا یہ راوی صحیح ہے، آیا اس کی بات یا حدیث صحیح نقل ہوئی ہے۔ کوئی کہتا ہے کہ نہیں، مثلاً یہ دیوانہ تھا یا اور اس طرح کی باتیں۔ ایک بہت بڑی حدیث وارد ہوئی ہے وہ ’’انی تارکم فیکم الثقلین کتاب اللہ و سنتی‘‘ دوسری جگہ ہے "کتاب اللہ و عترتی” پڑھا گیا ہے، جب میں نے اس حدیث کو دیکھا تو ذہن میں زور دے کر ایک جگہ پر بیٹھ کر ان باتوں سے بد دل سا ہوگیا اور اس عنوان سے میں چاہتا تھا کہ اتحاد بین المسلمین کا سلسلہ ہونا چاہیئے۔ آخر اختلاف کیوں؟ اس سلسلے میں اہل حدیث سے بھی ملا اور ان کا آئیڈیا بھی ہوا اور پھر اس کے بعد میں چاہتا تھا کہ کسی شیعہ عالم سے ملنا چاہیئے کہ وہ کس طرح نماز پڑھتے، وضو کرتے ہیں، تو اسی تلاش میں کسی نے بتایا کہ ایک مسجد خداداد میں ہے۔ آپ شام کو وہاں چلے جائیں اور دیکھیں کہ وہ کس طرح نماز پڑھتے ہیں۔ ان کے عالم سے بھی وہیں ملیں۔
جمعہ کی رات تھی اور یہ سن 1984ء کی بات ہے، میں نے دور سے تو شیعہ عالم کو دیکھا تھا، لیکن نزدیک سے یہ پہلی بار تھا۔ مسجد میں گیا، نماز پڑھی اور نماز کے بعد دعائے کمیل کے نام سے ایک دعا ہوئی اس دوران میں سوچ رہا تھا کہ ایک چھوٹی مسجد کا اتنا خوبصورت امام اور بہترین عربی بول رہا ہے۔ میں نے سوچا کہ دعا کے بعد ان سے گفتگو بھی کرتا ہوں اور انہیں دعوت بھی دیتا ہوں، لیکن نماز کے بعد سلام کے بعد مولانا چلے گئے اور میں بھی چلا گیا۔ پھر دوبارہ اگلے دن نماز کے لیے گیا تو وہ مولانا نہیں تھے بلکہ ایک دبلے پتلے اور مولانا نظر آئے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کل والے مولانا کہاں گئے تو اس نے بتایا کہ وہ تو قائد ملت تھا، وہ تو سید عارف حسینی تھا۔ میں نے سوچا کہ اتنی چھوٹی مسجد میں ایسا عالم، چونکہ اہل سنت مذہب سے میرا تعلق ہے اور میں کافی علماء سے بھی ملا ہوا ہوں، جن میں مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا ابوالکلام سے ملاقات بھی ہوئی ہے اور مفتی اعظم فلسطین امین حسینی سے بھی ملا ہوں اور علامہ مشرقی کے پیچھے بھی نماز پڑھی ہے۔
مولانا عطاء اللہ کی بھی پوری رات تقریریں سنی ہیں اور مولانا مودودی کے ساتھ کئی بار ایک ٹیبل پر بیٹھنے، شوریٰ اور مجلس عاملہ کے اجلاس کا شرف حاصل ہوا ہے اور اس طرح کافی علماء کے ساتھ بھی ملا ہوں اور ان میں جو میں نے خوبصورتی اور ایک انداز دیکھا تھا تو میں نے تقریباً تقریباً یک جا پایا۔ اگرچہ عارف حسینی مجھے ان سب سے چھوٹے نظر آئے تھے، مگر پراثر، جاذب شخصیت لگے، اس لئے جہاں بھی سنتا تھا کہ وہ آرہے ہیں تو میں وہاں چلا جاتا تھا۔ ان سے ملتا تھا اور تقریریں سنتا تھا۔ میں نے علامہ صاحب کے متعلق یہ رائے قائم کی کہ یہ بہت اچھے علامہ ہیں۔ ان کو مکمل عبور ہے۔ نہ فقط ایک فقہ پر بلکہ پوری فقہوں پر۔ کیونکہ میں نے چار سال فقہوں کے بارے تحقیق کی تھی۔ فقہ حنفیہ، مالک، شیعہ، شافیہ اور صحاح ستہ بھی میں نے پڑھی تھی، جن سے مجھے کچھ شکوک ابھرے تو میں اکثر فقہ کے بارے میں ان سے بات کرتا تو گویا جیسے ان کو معلوم تھا اور دوسری بات جو میں نے نوٹ کی کہ عالم اسلام اور بین الاقوامی مسائل پر ان کو پوری طرح عبور تھا۔
کئی مرتبہ میں نے لبنان کے بارے میں اور وہاں کی سیاسی تحریکوں کے متعلق اور سنی و شیعہ کے متعلق پوچھا تو وہ پوری تفصیل کے ساتھ بتاتے۔ فلسطین کے متعلق، ایرٹیریا یا بھارت اور دوسرے ممالک کے حالات کے مطابق اگر میں پوچھتا تھا کہ کویت میں کتنے شیعہ اور کتنے سنی ہیں تو وہ بھی بتا دیتے تھے۔ تو اس لحاظ سے میں نے یہ سوچا کہ وہ بہت بڑے سیاست دان بھی ہیں اور ان کی پورے عالم اسلام پر نظر بھی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ علامہ صاحب بہت بڑے راست گو انسان بھی ہیں۔ جب قربت بڑھی تو ذاتی حال احوال بھی لیا، میں نے بتایا کہ غریبی اور کمزوری کے باوجود میں غریب نہیں ہوں۔ میرے پیچھے بچے ہیں، مزدوری کرتے ہیں، اس معمولی روزی میں بھی خداوند نے زیادہ لذت عطا کی ہے تو بہت خوش ہوئے۔ اس طرح وہ پہلی بار میرے گھر تشریف لے آئے تو میں نے بتایا کہ میں چپل سازی اپنے ہاتھوں سے گانٹھ لیتا ہوں اور یہ گھر میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔ یہ جو شہتیر ہیں، سیمنٹ کے، یہ میں نے زمین پر بنائے ہیں اور پھر بچوں سے اٹھوائے ہیں تو پھر سیمنٹ کے تختے رکھے ہیں تو اس سے وہ بہت خوش ہوئے کہ مجھے ایسے لوگ پسند ہوتے ہیں، جو اپنے ہاتھ سے کام کرسکتے ہیں۔
ان کے دل میں تڑپ تھی، وہ دلجوئی کرتے تھے۔ سنی علماء کے لیے جو کوشش کرتے تھے کہ ان لوگوں کے مسائل پیدا نہ ہوں ان کے لیے۔ تو ایسے لوگ دنیا میں بہت کم ہوتے ہیں۔ ہمارے ایک رفیق تھے، وہ جماعت اسلامی میں ہمارے ساتھ تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ یہی ہیں، انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے حج کیا بادشاہ صاحب۔ تو اس نے کہا کہ نہیں تو اس کو کہا کہ آدھی رقم اگر آپ کریں تو آدھی رقم میں دیتا ہوں اور پھر انہوں نے آدھی رقم ادا کی، لیکن ان کی بدقسمتی سے اس کے بعد وہ شہید ہوچکے تھے، پھر وہ نہیں گئے۔ ابھی تک وہ بادشاہ زندہ ہیں، جب اس سے بات کی تو اس کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ میری قسمت میں حج نہیں تھا۔ ایک مرتبہ مجھ سے بھی پوچھا تو میں نے کہا کہ آقا صاحب میں نے خدا کے فضل سے حج کیا ہے۔ دوسری تو سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ ان کی باتیں تمام بڑی باتیں ہیں۔
ایک بات میں نے نوٹ کی، جب وہ مجلس میں تشریف لاتے یا کوئی اجلاس ہوتا تو وہ باقاعدہ جس طرح سورئہ نمل کی آیت ہے ’’وَ تَفَقَّدَ الطَّیْرَ فَقَالَ مَا لِیَ لَاۤ اَرَى الْهُدْهُدَ اَمْ كَانَ مِنَ الْغَآىٕبِیْنَ‘‘ جس طرح حضرت سلیمان ؑ نے نظر دوڑائی اور ھد ھد نہیں تھا تو ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے کہ مجھے ھد ھد نظر نہیں آرہا، آیا وہ یہاں نہیں ہے۔ تو اسی طرح وہ مجلس ’’اجلاس‘‘ میں نظر رکھتے تھے کہ فلاں شخص کیوں نہیں آیا یا پھر وہ پوچھتے خدانخواستہ کوئی تکلیف تھی۔ شاہ جی کے والد بیمار تھے تو وہ ان سے احوال پرسی کے لیے ہسپتال گئے اور وہاں شاہ جی سے پوچھا کہ وہ (میرے بارے) کہاں ہیں؟ تو انہوں نے کہا مجھے معلوم نہیں، خدانخواستہ وہ بیمار نہ ہوں تو اسی رات مجھے اشتباہ ہوا کہ دروازہ کھٹکتا اور آقا صاحب خود بنفسِ نفیس تشریف لے آئے تو میں حیران رہ گیا تھا کہ خداوندا یہ کتنا بڑا آدمی ہے، کتنے کمزور اور پست لوگوں کا اتنا خیال رکھتا ہے۔
مجھے ایک مرتبہ اسلام آباد دو گھنٹے وہاں کوئی پروگرام تھا، غالباً یہ مختلف علاقوں کے تربیتی یونٹ آئے تھے۔ ان کی ان کے سامنے تقریر تھی۔ اگرچہ وہ تین چار روزہ پروگرام تھا۔ مجھے کہا کہ میرے ساتھ چلیں۔ میں نے کہا اچھا، چلے گئے، اچھا میں نے ان سے پوچھا آقا صاحب رات وہاں گزاریں گے یا آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نہیں واپس آئیں گے، ان شاء اللہ۔ تو میں نے کہا ٹھیک ہے۔ تقریباً ہم دو بجے رات کو واپسی پہنچے تو مدرسہ کے راستہ کے قریب پہنچے تو میں نے کہا کہ آقا صاحب مجھے یہاں اتار دیں، میں جاؤں گا، مجھے کہا کہ آپ رات یہاں رہیں تو میں نے کہا کہ میں نے گھر وعدہ کیا ہے کہ میں واپس آؤں گا۔ میں گھر جو بات بھی کرتا ہوں، وہ پوری کرتا ہوں۔ حقیقت ہے کہ خدا کے فضل سے ابھی تک کوئی وعدہ خلافی نہیں ہوئی تو عباس، جو ان کے ڈرائیور تھے۔ میرا یہ خیال تھا کہ مجھے راستے میں اتار دیں گے، لیکن ڈرائیور عباس کو کہا کہ آپ ان کے گھر کی طرف جائیں، وہاں تک چھوڑ کے آئیں تو میں نے کہا یہ قیمتی آدمی کیوں اتنا رسک لیتا ہے۔ شہید کے ساتھ ایسی بہت سی یادیں ہیں۔
انٹرویو از حاجی حسین علی ہزارہ کوئٹہ:
میں شروع سے اجتماعی جدوجہد پر یقین رکھتا ہوں، اس لئے علمائے کرام سے ہمیشہ ہمارا سروکار و قرب رہا۔ اٹھنا بیٹھنا علمائے کرام کے ساتھ رہا۔ قائد مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین کے دور میں بھی ہم علماء کے ساتھ رہے۔ قائد مرحوم سے ملاقاتیں کیں۔ شرف حاصل ہوتا رہا اور اسی طرح قائد شہید کے ساتھ بھی۔ خصوصاً سانحہ کوئٹہ کے بعد ہم جتنے شہید کے قریب ہوتے گئے، ہم نے قائد میں جاذبیت پائی۔ جتنے قریب ہوئے اتنے ہی جذب ہوئے۔ قائد سانحہ کے بعد کوئٹہ تشریف لائے تو ان دنوں میں ہم زندان میں تھے۔ رہائی کے بعد جب ہم نے آپ کے ساتھ مل کر دیگر اسیروں کی رہائی کی بات کی تو دوبارہ ہمیں گرفتار کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن ہم نے پکڑائی نہ دی۔ اس دور مین شہید کے ساتھ بہت سے مقامات پر ملاقاتیں ہوتی تھیں، راولپنڈی مدرسہ آیۃ الحکیم میں شہید سے ملاقاتیں ہوئیں۔ خصوصاً کراچی میں جو کنونشن منعقد ہوا تھا، اس میں بندہ نے شرکت کی اور بلوچستان کی رپورٹ پیش کرنے کا اعزاز مجھے حاصل ہوا۔
ان دنوں اسیران کی رہائی اہم مسائل میں سے تھی اور یہی زیر بحث تھی۔ نتیجتاً قائد نے اعلان کیا، جو لانگ مارچ کے نام سے تھا اور جہاں تک میری معلومات میں ہے، اس لانگ مارچ کے اعلان کا نتیجہ تھا کہ ضیاء کی جابر و ظالم حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسیران اس شان و شوکت سے آزاد ہوئے کہ جس کی بلوچستان کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ اس رہائی کا اندازہ وہی لوگ لگا سکتے، جو اس دور میں موجود تھے۔ رہائی کے دوسرے یا تیسرے دن قائد کوئٹہ تشریف لائے۔ شاندار استقبال ہوا اور علمدار روڈ کے آخر پر جو قبرستان ہے، وہاں شہید نے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد جب بھی قائد کوئٹہ تشریف لائے تو مجھے یہ سعادت تھی کہ میں انہیں ایئرپورٹ سے اپنی گاڑی پر لاتا تھا اور واقعاً میں بہت خوشی محسوس کرتا تھا کہ میں ایک عظیم شخصیت کا ڈرائیور ہوں اور انہیں لے جا رہا ہوں۔ برادر فدا حسین نے پشاور والے سفر کا ذکر کیا۔ وہ مناجات میں نے بھی سنی، جو شہید مظلوم نماز شب کے بعد کرتے تھے۔ میرے پاس وہ الفاظ نہیں کہ ادا کروں، انتہائی حسین، میٹھی آواز کہ جو آج بھی ناقابلِ فراموش ہو۔
اس کے علاوہ اور بھی بہت باتیں ہیں کہ جو مثلاً مجھے یاد نہیں آرہی ہیں۔ ان شاء اللہ بعد میں وہ تمام واقعات و گزرے ہوئے ایام کی ڈائری اور تصاویر وغیرہ پیش کروں گا۔ قائد شہید کی شخصیت اتنی جذاب کہ انسان جتنا ان کے قریب ہو، وہ اور بھی ان کے نزدیک ہونے کی کوشش کرتا۔ وہ وہ چیزیں ہیں کہ جن کو میں نے محسوس کیا ہے۔ علمائے کرام اور بھی بہت ہیں۔ قائد شہید کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات ناقابل فراموش ہیں اور آپ کی یاداشت بہت قوی تھی۔ آپ ایک دفعہ دورے پر تشریف لائے۔ آقای جمعہ اسدی اور دیگر آئی ایس او کے نوجوان موجود تھے۔ فوٹو لیے، اتنے میں میرا بیٹا مہدی جو آئی ایس او کا ممبر رہا ہے اور دیگر تنظیموں کے ساتھ بھی رابطہ رہا ہے۔ میں نے شہید سے عرض کی کہ آپ اس کو جانتے ہیں تو قائد نے تین مرتبہ فرمایا خوب می شناسم، خوب می شناسم، خوب می شناسم۔ الحمد اللہ قائد شہید کے ساتھ بھی ہمارا رابطہ و تعلق گہرا تھا اور دیگر علمائے کرام سے بھی، شہید قائد کی زندگی نے ہم سب پر گہرے نقوش مرتب کئے۔ ان کی شہادت بہت بڑا نقصان تھا، مگر انہیں یہ سعادت ملنا تھی۔
انٹرویو از سینیئر برادر فدا حسین، کوئٹہ
قائد شہید سے بہت ہی ملاقاتیں ہوئیں، لیکن آخری دو ملاقاتیں ناقابلِ فراموش ہیں۔ گلگت کے سانحہ کے بعد میں آقای شیخ علی نجفی، آقای توسلی، حاجی حسین علی اور دو برادر ہم گلگت جانے کے لیے راولپنڈی گئے، لیکن ٹکٹیں اوکے نہیں ہو رہی تھیں۔ ہم نے فیصلہ کیا کہ اس وقت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور قائد شہید یعنی علامہ السید عارف حسین الحسینی صاحب کے پاس پشاور جاتے ہیں اور جب ٹکٹیں او کے ہو جائیں گی۔ واپس آکر گلگت چلے جائیں گے۔ پشاور میں آغا محترم سے ملے، معلوم نہ تھا کہ یہ آخری دو ملاقاتیں ہیں اور آغا صاحب کا ملن اور خلوص سے پیش آنا ناقابل فراموش ہے۔ شام کو پہنچے تھے۔ آغا کی اقتدا میں نماز پڑھی، کھانا کھایا اور عبداللہ سے کہا کہ انہیں بازار لے جائیں، شہید نے کہا کہ لے جائیں اور یہ بھی فرمایا کہ آپ صبح پاراچنار چلے جائیں، سرد علاقہ ہے، جب تک ٹکٹیں او کے نہیں ہوتیں، وہاں پیواڑ جائیں، یہاں تو گرمی اور گرم علاقہ ہے، بازار سے واپس آئے۔
رات کو سو رہے تھے کہ آدھی رات کو مناجات کی آواز سنی تو میں اور آقای نجفی جاگ گئے۔ وہ گھڑی، وہ وقت ہم کبھی نہیں بھول سکتے کہ نماز شب کے بعد آپ نے وہ مناجات شروع کیں۔ میٹھی اور درد بھری آواز میں۔ ہمیں شرمندگی ہوئی کہ ہم سو رہے تھے، لیکن آغا صاحب مناجات کر رہے ہیں۔ آغا صاحب نے ہم سے معذرت کی کہ آپ میری تلاوت کی وجہ سے جاگ گئے۔ صبح آقا صاحب کے ساتھ ناشتہ کیا، خود آقا صاحب نے ناشتہ کرایا۔ وہاں سے شہید کی فرمائش پر پاراچنار گئے۔ دو تین دن کے بعد فون کیا تو آپ نے فرمایا کہ دو ٹکٹیں ہوگئی ہیں، واپس آجائیں۔ واپس آئے، قائد صاحب کے ساتھ کھانا کھایا، تصویریں اتاریں۔ اتفاق کی بات ہے کہ وہ تصویریں نہ آسکیں۔ قائد صاحب کو جلدی تھی، کہیں محلے میں کسی کا نکاح پڑھنے کو جانا تھا۔ یہ 3 جون 1988ء کا واقعہ ہے۔ ہم راولپنڈی سے گلگت گئے۔ واپس 6 جولائی کو راولپنڈی پہنچے۔
8 جولائی کو مرکزی کونسل کی اسلام آباد جامعہ اہل بیت میں میٹنگ تھی۔ قائد شہید بھی وہاں تشریف فرما تھے۔ شام کو ملے اور ان تصویروں کا ذکر کیا کہ وہ تمام خراب ہوگئیں۔ آپ نے علامہ السید ساجد علی نقوی اور دیگر علمائے کرام سید علی موسوی، سید جواد ہادی، آقای توسلی کو بلایا کہ بھئی یہ یادگار تصویریں بنانا چاہتے ہیں، ان کی پہلی تصویریں خراب ہوگئیں۔ ہم نے تصویریں اتا دیں۔ رخصت ہوئے اور 5 اگست کو خبر ملی کہ شیعان حیدر کرار، مستضعفین پاکستان کے دلوں کی دھڑکن کو اپنی راہ سے بٹا دیا گیا ہے اور صبح کو پشاور میں شہید کر دیا گیا۔ اگر یہ معلوم ہوتا تو ہم اپنے محبوب سے جدا ہی نہ ہوتے۔ شہید قائد کیساتھ تنظیمی سفر میں بہت ملاقاتیں ہوئیں ہیں، مگر یہی آخری ملاقاتیں ناقابل فراموش ہیں، شہید کا ہم جیسوں کو اس قدر اہمیت دینا بہت متاثر کن تھا، بس اب تو ان کی یادوں کا سہارا ہے۔ اللہ کریم ان کے درجات عالی فرمائے۔


































