
میونخ : پاکستانی وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے خبردار کیا ہے کہ اگر افغان عبوری حکومت نے دہشت گردوں کو نہ روکا تو دہشتگردی مزید پھیل جائے گی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس سے خطاب میں بلاول بھٹو نے کہاکہ تشویش کی بات یہ ہے کہ اگر دہشت گرد گروپوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا اور افغان عبوری حکومت نے دہشت گرد گروپوں سے مقابلہ کرنے کے عزم اور صلاحیت کا مظاہرہ نہ کیا تو وہ سب سے پہلے اس خطے میں دہشت گردی کی کارروائیاں کریں گے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ ہم کابل سےامریکی انخلا کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھ رہے ہیں لیکن ان کارروائیوں کو دیگر خطوں تک پہنچنے میں بھی زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ انہوں نے عالمی رہنماؤں سے مزید کہا کہ وہ افغانستان کی عبوری حکومت کی صلاحیت میں اضافے کے لیے راستے تلاش کریں تاکہ ایک مستقل فوج بنانے میں ان کی مدد کی جا سکے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ خطے میں افغانستان کے حوالے سے سب سے اہم مسئلہ ملک کی سیکیورٹی اور دہشت گردی کا خطرہ ہے جبکہ افغانستان سے باہر بھی ہر رنگ اور نسل کی دہشت گرد تنظیموں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ وزیر خارجہ نے عالمی برادری پر اس سلسلے میں فعال کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اہم بات یہ ہے کہ افغانستان میں عبوری حکومت کو بین الاقوامی برادری کےاتفاق رائے سے اپنی سرحدوں کے اندر دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے قائل کیا جائے۔ بلاول بھٹو زرداری نے افغان حکومت کی بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے پاس کوئی باقاعدہ فوج نہیں ہے، نہ انسداد دہشت گردی فورس ہے اور نہ ہی سرحد کی سیکیورٹی کے لیے مناسب فورس ہے، اس صورت حال میں اگر وہ کوئی کارروائی کرنا بھی چاہیں تو ان کے پاس اس دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں ہے جو پہلے ان کے قریبی پڑوسی ممالک اور پھر بین الاقوامی برادری کے لیے ایک مسئلہ ہے۔


































