
کابل : طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی کے ثبوت ہیں تو وہ ہمیں دیں، ہم ان کے خلاف خود کارروائی کریں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے یوٹیوب چینل ’دی خراسان ڈائریز‘ کو انٹرویو میں کہا کہ اگر پاکستان نے ثبوت فراہم کرنے کے بجائے افغانستان پر حملہ کیا تو یہ جارحیت تصور ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کالعدم تحریک طالبان پہلے سے پاکستان میں موجود تھی اور پاکستان میں بے امنی بھی پہلے سے تھی جو اب بھی جاری ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان میں امن ہمارے لیے انتہائی ضروری ہے۔ پاکستان کو بارہا اپنی مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ کوئی تحفظات ہیں تو پاکستان ہم سے بات کرے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ ہم نے برسوں جنگ دیکھی ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ کسی اور ملک میں بھی ایسا ہو۔ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اپنے اندرونی مسائل خود حل کرنا چاہیے۔ پاکستان میں بے امنی کی ذمہ داری کسی طرح بھی افغانستان پر نہیں ڈالی جاسکتی۔


































