
AHMEDABAD, INDIA – MAY 16: BJP leader Narendra Modi gestures to supporters as he sits with his mother Heeraben Modi, not seen, on her front porch after seeking her blessing on May 16, 2014 in Ahmedabad, India. Early indications from the Indian election results show Mr Modi’s Bharatiya Janata Party was ahead in 277 of India’s 543 constituencies where over 550 million votes were made, making it the largest election in history. (Photo by Kevin Frayer/Getty Images)
تحریر: تصور حسین شہزاد
بعض اوقات لمحوں کی خطا کی سزا صدیوں پر محیط ہو جاتی ہے اور کئی بار تو ایسا بھی ہو جاتا ہے کہ انسان کسی اور کیلئے گڑھا کھودنا شروع کرتا ہے، مگر گِر خود جاتا ہے۔ بھارت نے متعدد بار پاکستان کیخلاف جارحیت کی۔ مگر ہر بار بھارت کو سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ ابھی کل کی ہی بات ہے۔ بھارت نے سرجیکل سٹرائیک کی۔ پاکستان نے اس کا طیارہ مار گرایا۔ پائلٹ ابھے نندن کو گرفتار کر لیا اور چائے پلا کر رخصت کیا۔ بھارت کو اس معاملے پر پوری دنیا میں سُبکی کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ پاکستان نے ایک چائے کی پیالی کے بدلے بھارت کا ایک طیارہ ملبے کے ڈھیر میں بدل دیا۔ بھارت کو چائے کی یہ پیالی ایک طیارے کی قیمت میں پڑی۔
اس کے بعد بھارت نے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے اپنی اس سُبکی کو مٹانے کی کوشش کی اور دعویٰ کر دیا کہ اس نے پاکستان کا ایف سولہ طیارہ مار گرایا ہے۔ مگر پاکستان نے اپنے طیاروں کی پوری تعداد دکھا کر بھارت کے اس جھوٹ کو بے نقاب کر ڈالا۔ اس کے بعد بھارت نے متعدد بار سرحدی فائر بندی کی بھی خلاف ورزیاں کیں، مگر منہ توڑ جواب ملنے پر بھارتی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ ایک بار بھارتی وزیراعظم مودی نے بیان دیا تھا کہ بھارت پاکستان کیخلاف جنگ کو سات سے دس دنوں میں نمٹا سکتا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ اور آرمی چیف نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر دراصل بھارت کا حصہ ہے۔ جس پر وزیراعظم عمران خان نے خبردار کیا کہ کشمیر تنازعے کی حیثیت کو تبدیل کرنے کی بھارتی کوشش کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
بھارت نے اس سے قبل یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے بالاکوٹ میں دہشتگردوں کے مرکز کو نشانہ بنایا ہے۔ پاکستان نے فوری طور پر بالاکوٹ کی اس جگہ کا ملکی و غیر ملکی میڈیا کو دورہ کروایا اور جائے حادثہ سے صرف ایک کوے کی لاش کے سوا کچھ نہ ملا، یوں بھارت کا یہ دعویٰ بھی بے سرو پا ثابت ہوا۔ بالاکوٹ حملے کے بعد پاکستان نے اپنے ردعمل میں واضح کہا کہ مستقبل میں پاکستان ایسے کسی بھی سرحد پار سے کئے گئے حملے کے جواب میں اپنے طاقتور روایتی ہتھیاروں پر زیادہ انحصار کرے گا۔ جن کے استعمال کی مشق متعدد فوجی مشقوں میں کی جاتی رہی ہے۔ پاکستان کی موجودہ روایتی ڈیٹرنس کی حکمت عملی ایک نئے جنگی نظریئے پر مبنی ہے جو بیک وقت بری، بحری اور فضائی تینوں سپاہ کے انضمام کے ذریعے ردعمل تجویز کرتا ہے۔ عزم نوء مشق، ہائی مارک ڈرلز، سٹرائیک آف تھنڈر ڈرلز اور سی سپارک مشق اسی نظریے کے تحت حرکت میں آنے کیلئے درکار وقت کو کم کرنے نیز آپریشن کیلئے فوج کی تین شاخوں کے مابین انضمام کو بہتر بنانے کیلئے منعقد کی گئی تھیں۔
پاکستان اپنے دفاع کیلئے مضبوط حکمت عملی کیساتھ تیار ہے۔ بھارت کو بھی اپنے طیارے تباہ کروانے کے بعد احساس ہو گیا کہ پاکستان کے اندر جا کر حملہ کرنا ناممکن ہے، یہ وجہ ہے کہ اس ناکامی کے بعد بھارت نے طیاروں کے استعمال کی بجائے اپنی میزائل ٹیکنالوجی پر توجہ دینا شروع کر دی۔ مگر اس معاملے میں بھی اللہ پاکستان کیساتھ ہے۔ اس کی میزائل ٹیکنالوجی کا پورا پلان پاکستان کے ہاتھ لگ چکا ہے۔ بھارت نے 9 مارچ کو براہموس سپر سانک میزائل کا تجربہ کیا۔ میزائل نے فنی خرابی کا شکار ہو کر اپنا رستہ کھو دیا۔ اور روٹ سے ہٹ کر پاکستان کے شہر میاں چنوں کے قریب آن گرا۔ مقامی لوگ یہی سمجھے کہ پاکستان ایئر فورس کا کوئی تربیتی طیارہ ہے جو گر گیا ہے۔ مگر جب اس کے گرنے کے فوری بعد پاک فوج کے جوان پہنچے اور میزائل کی باقیات دیکھیں تو پتہ چلا کہ یہ تو ایک مزائل ہے۔
یہ بھارت کیلئے اس قدر شرمناک اور پریشان کن بات ہے کہ اس کی نیندیں حرام ہو چکی ہیں۔ راتوں رات انڈیا کے اربوں ڈالر کا منصوبہ پکے ہوئے آم کی طرح پاکستان کی جھولی میں آن گرا ہے۔ سرحد پار دہلی میں اس قدر خاموشی ہے، جیسے کوئی مر گیا ہو، کیونکہ یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی انجینئر اس کا آپریشن کریں گے اور آپریشن کے بعد کیا ہوگا اس بات سے ان کے حلق خشک ہو رہے ہیں۔ بھارت اس لئے بھی پریشان ہے کہ پاکستان اگر اس میزائل کو بھارتی سرحد کے 100 کلومیٹر اندر اس کے لانچ پیڈ سمیت ڈیٹکٹ کر سکتا ہے، تو وہ اور بھی بہت کچھ کر سکتا ہے۔ جیسا کہ پاکستان نے ثابت بھی کیا ہے۔ یہاں نہ کسی بات کی وضاحت کی جائے گی اور نہ کوئی آپریشنل معلومات فراہم کی جائیں گی، بس جتنا آئی ایس پی آر نے کہا وہی بہت ہے۔ یاد رہے کہ کسی ملک کی سلامتی کیلئے اس کی سرحد پر موجود وہ خفیہ توپ خانے، بنکر اور میزائل لانچ پیڈ ہوتے ہیں، جس سے وہ دشمن کو سرپرائز دے سکتا ہے، لیکن بھارت کے معاملے میں یہ الٹا ہوا ہے۔ نہ صرف بھارت کا میزائل ڈیٹکٹ ہوا، بلکہ اس کا لانچ پیڈ اور آپریشنل ہیڈکوارٹر، کمانڈ سینٹر کا راز بھی عیاں ہو گیا، یہ کسی بھی فوج کیلئے خودکشی کا مقام ہوتا ہے۔
9 مارچ کے واقعے نے بھارت کو ایسا حیران کیا ہے کہ وہ اب تک ہکا بکا ہیں کہ آخر پاکستان کو اس منصوبے کا پتہ چلا کیسے؟ پاکستان نے اسے ڈیٹیکٹ کیسے کیا؟ جبکہ ہم نے تو کسی میزائل تجربے کی خبر تک کسی کو ہونے ہی نہیں دی، پھر پاکستان کیسے اس سے آگاہ تھا۔ اس کیسے کا جواب آج تک بڑے بڑے ڈھونڈ رہے ہیں، اور وہ ہمیشہ ناکام ہی رہے ہیں۔ الحمدللہ، اللّٰہ نے پاکستان کو ایسے ذہین دماغوں والے سالار دیئے ہیں، جن کی حاضر دماغی نے بڑے بڑوں کو حیران و پریشاں کیا ہوا ہے، بھارت کس باغ کی مولی ہے۔ آج بھارت میں آئی ایس پی آر کے یہ الفاظ گونج رہے ہوں گے کہ ’’ہمیں کیا پتہ کہ یہ چیز کیا ہے، اس بات کا جواب تو اب بھارت دے گا کہ یہ کیا ہے‘‘ بھارت کیسے اور کس منہ سے جواب دے گا کہ یہ کیا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شائد اسی لئے کہا ہے کہ مودی یاد رکھے کہ اب یہاں وہ نہیں جو ساڑھیاں دیا کرتے تھے، اب بھارتی جارحیت پر اینٹ کا جواب پتھر سے ملے گا۔


































