
اسلام آباد: صدر ڈاکٹر عارف علوی نے اکتوبر میں بھی عام انتخابات کا انعقاد خطرے میں قرار دے دیا۔ ایک انٹرویو میں صدر عارف علوی نے کہاکہ میں نےصوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے سے پہلے عمران خان کو بتا دیا تھا کہ اکتوبر میں بھی انتخابات کا انعقاد مشکل ہے۔ جمہوری طاقتیں آپس میں لڑیں تو خطرہ تو رہتا ہے۔ اب بھی خطرات منڈلا رہے ہیں، تاہم میں نہیں سمجھتا کہ مارشل لا کا خطرہ ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ آئین کو مسخ نہ کیا جائے۔ صدرعارف علوی نے واضح کیا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور سابق وزیراعظم عمران خان کے درمیان ملاقات کی کوئی کوشش نہیں کی۔انہوں نے کہاکہ عدالتی اصلاحات بل کی منظوری کی ٹائمنگ بہتر ہو سکتی تھی۔ جب بھی زور زبردستی سے کوئی کام کیا جاتا ہے تو اس سے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں جب بھی کوئی کردار ادا کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو میری رائے کو پی ٹی آئی کی رائے کہہ دی جاتی ہے۔ اس وقت ملک میں بحران کی کیفیت ہے اور میں بحران میں مثبت کردار ادا کرنا چاہتا ہوں۔ سپریم کورٹ کے ججز میں اختلاف رائے پر صدر مملکت عارف علوی کا کہنا تھا کہ ’جب بھی اداروں پر جب پریشر آتا ہے تو پھر ان میں دراڑیں نظر آتی ہیں۔ اگر 90 روز میں خیبر پختونخوا اور پنجاب میں الیکشن نہیں ہوتے تو پھر قومی قیادت اور اداروں کو ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔


































