
تہران : ولی امر مسلمین آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ اسرائیل کیخلاف جنگ میں حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی قوتیں فاتح ہیں اور حتمی فتح بھی مزاحمت کاروں کی ہی ہوگی۔ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا ہے کہ اگر غاصب صیہونی حکومت غزہ۔ مغربی کنارے یا لبنان میں مزاحمت کاروں کو شکست دینے میں کامیاب ہو جاتی تو اسے بچوں اور عورتوں کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر کے بدصورت طریقے سے دنیا پر مکروہ چہرہ نمایاں کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نےکہا کہ حزب اللہ کی کچھ موثر اور قیمتی شہادتیں ہوئی ہیں جس سے حزب اللہ کو نقصان پہنچا ہے لیکن یہ ایسا نقصان نہیں جو حزب اللہ کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کردے۔ حزب اللہ کی تنظیمی اور انسانی طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے، ان کی صلاحیتیں اور طاقت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ولی امر مسلمین نے فلسطین اور لبنان کے خلاف اسرائیلی جنگ کو عراق کے سابق آمر صدام حسین کے ایران پر حملے سے تشبیہ دی، اس مسلط کردہ جنگ سے ملتا جلتا واقعہ فلسطین اور لبنان میں دیکھا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فلسطین اور غزہ کے لوگ اللہ کی راہ میں لڑ رہے ہیں۔ لبنان کی حزب اللہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کر رہی ہے۔ حزب اللہ کو غزہ کی حمایت کرنے پر حملوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ آیت اللہ خامنہ ای نے لبنان میں پیجر اور واکی ٹاکی حملوں کے بارے میں پیشگی معلومات نہ ہونے کے امریکی دعووں کو مسترد کر دیا۔ امریکی کہتے ہیں کہ وہ ملوث نہیں ہیں اور ان کے پاس کوئی معلومات نہیں ہے، لیکن ان کے پاس معلومات ہیں اور وہ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ امریکی حکومت کو آئندہ انتخابات میں صیہونی حکومت کی فتح کی ضرورت ہے۔


































