
Oplus_16777216
(شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی (رح) کی 37 ویں برسی کی مناسبت سے خصوصی تحریر)
تحریر: آغا زمانی
قائد محبوب، داعی وحدتِ امت اسلامی، شہیدِ مظلوم حجۃ الاسلام علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ ایک ملکوتی، مخلص، متقی اور انقلابی رہنماء تھے، جنہوں نے مختصر مگر تابناک عرصے میں ملت تشیع پاکستان کو وحدت، شعور، بہادری اور وقار کی نئی جہت عطا کی۔ وہ امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے سچے پیروکار تھے اور پاکستان کو سامراجی چنگل سے نکال کر اسلامِ ناب محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی نظام کے قیام کے لیے کوشاں رہے۔ انہوں نے اتحاد بین المسلمین کو اپنا مشن بنایا، سیاسی و مذہبی میدان میں بے باک قیادت کا عملی مظاہرہ کیا، نوجوانوں کو بیدار کیا اور تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی جدوجہد کی۔ پاکستان جسے کچھ لوگ بانجھ زمین کہتے ہیں کہ یہاں کوئی ایسی شخصیت نہیں ابھری، جو عالمی سطح پر فکر و قیادت کا استعارہ بن سکے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ زمین کئی ایسے چراغوں کی ماں رہی ہے، جن کی روشنی نے ظلمت کے ایوانوں کو لرزا دیا۔ ان میں ایک نام ایسا بھی ہے، جو فقط ایک شخصیت نہیں، بلکہ ایک فکر، ایک تحریک، ایک امید، ایک بیداری کا نام ہے۔ ایک ایسا خواب جو جاگتی آنکھوں نے دیکھا اور جس کی تعبیر کو اس کے لہو نے سینچا۔ اس نام کو تاریخ نے سنہری حروف میں لکھا۔
وہ جو ایک صبح فجر کے وقت اس دنیا میں آیا، کچھ ایسا نور لے کر آیا تھا، جس نے فقط پشاور یا کرم ایجنسی ہی نہیں بلکہ ملت کے سینے کو بھی منور کرنا تھا۔ 25 نومبر 1946ء کی وہ پر نور صبح کرم ایجنسی کے ایک گاؤں پیواڑ میں ایک مقدس خانوادے میں چمکی۔ یہ گھر تھا سید فضل حسین شاہ حسینی کا۔۔ نجابت، شرافت، سیادت اور علم کا ایسا گہوارہ جہاں ایمان گھٹی میں دیا جاتا تھا۔ اسی فضا میں جس کے اردگرد پہاڑوں کی خاموشی اور درختوں کی سبزیاں ایک عجیب روحانی آہنگ رکھتی تھیں، سید عارف حسین الحسینی نے آنکھ کھولی۔ وہ بچہ جو خاموشی سے آیا مگر جس کی روح میں ایک قیادت کی تڑپ، ایک درد کا سمندر اور ایک الہیٰ مشن کی چنگاری روشن تھی۔ یہ داستان ہے ایک ایسے مردِ مجاہد کی، جو گمنامی کے اندھیروں سے اٹھا اور ملت کے ماتھے کا جھومر بن گیا۔ جس نے ساڑھے چار سال میں وہ تاریخ رقم کی، جو کئی دہائیوں میں بھی ممکن نہ ہو سکی۔ یہ روداد ہے ایک ایسی روشنی کی جو شہادت کے بعد بھی مدھم نہیں ہوئی بلکہ زمانوں کو جگاتی رہی۔
سال 1984ء کا سورج ایک نئی امنگ لے کر طلوع ہوا تھا۔ پاکستان کے گلی کوچے، سیاست کی گرد میں اَٹے ہوئے تھے۔ ملت تشیع بکھری ہوئی تھی اور ہر جانب سرد مہری، محرومی اور بےبسی کا سماں تھا۔ ایسے میں امامِ زمانہ عجل کا ایک گمنام سپاہی، ایک زاہدِ شب زندہ دار، ایک مردِ قلندر، قوم کی باگ سنبھالنے آگے بڑھا۔ نہ اس کے دامن میں اقتدار تھا، نہ پشت پر کوئی سیاسی قبیلہ۔ اس کا سرمایہ صرف اخلاص تھا، صرف خدا کا خوف، فقط امت کا درد۔ اس مردِ عارف نے کہا: "ہم اسلامِ محمدی (ص) کے وارث ہیں، نہ کہ امریکی اسلام کے” اور یہ جملہ گونج اٹھا۔ جہاں جہاں اہلِ حق کے کانوں تک یہ صدا پہنچی، وہ چونک گئے۔ جہاں جہاں دل زندہ تھے، دھڑکنے لگے۔ علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کا اٹھایا ہوا پرچم صرف مسلک کا علم نہ تھا، یہ اس اسلام کی دعوت تھی، جس میں عدل، بیداری، اخوت، ایثار اور مزاحمت کی خوشبو تھی۔ وہ کہتے تھے: "ہم اس سیاست کے قائل نہیں، جو کاسہ لیسی سکھائے، ہم دین کے پرچم تلے وقار کی سیاست کریں گے، ایسی سیاست جس میں مطالبات دین غالب ہوں۔”
آپ نے یہ بھی فرمایا: ”لوگوں کا دین ان کی سیاست کے گرد گھومتا ہے، لیکن ہماری سیاست کا محور ہمارا دین ہے”. ان کا لہجہ نرم تھا، مگر الفاظ فولاد۔ ان کی گفتگو پرسکون، مگر مفہوم بیدار کنندہ۔ ان کے نعرے میں گرج نہ تھی، مگر دل چیر دینے والی تاثیر ضرور تھی۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے پرائمری اسکول سے شروع کی۔ لیکن جلد ہی یہ بات واضح ہوگئی کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں، اس کی نگاہ میں ایک ایسی جستجو تھی، جو قریبی مدارس کی دیواروں میں مقید نہ رہ سکتی تھی۔ علم کی پیاس نے اسے وہاں پہنچایا، جہاں صدیوں سے علم کے چشمے بہتے تھے۔ یعنی نجف اشرف۔ 1967ء میں جب انہوں نے پہلی بار نجف کا رخ کیا، تو ان کی عمر بمشکل بیس برس تھی۔ نجف اس وقت علمی آسمانوں پر جلوہ افروز تھا۔ وہاں آیت اللہ العظمیٰ محسن الحکیم اعلیٰ اللّٰہ مقامہ کی فقہی بادشاہی قائم تھی، علم کے مینار جگمگا رہے تھے اور ہر سمت میں معرفت کی خوشبو پھیلی ہوئی تھی۔ اسی نجف میں ایک اور نورانی ہجرت ہوئی، امام روح اللہ خمینی رضوان اللہ علیہ کی۔ جب امام خمینی ایران سے جلا وطن ہو کر نجف آئے تو نوجوان عارف الحسینی بھی اس روحانی مردِ قلندر کے قدموں میں بیٹھنے لگے۔ امام کی اقتدا میں نماز پڑھنا ان کی گفتگو سننا، ان کے افکار کو جذب کرنا، جیسے ان کی روح کا تقاضا بن گیا۔ یہ عشق، فقط عقیدت نہ رہا یہ ایک عہد میں بدل گیا۔ ایسا عہد جو ایک دن ملتِ مظلوم کی رہنمائی بنے گا۔
نجف اشرف کے بعد ان کا علمی سفر قم کی طرف روانہ ہوا۔ وہ قم جو انقلاب اسلامی کی بھٹی بن چکا تھا۔ جہاں ہر مدرسہ، ہر حجرہ، ہر اجتماع، ظلم کے خلاف قیام کا استعارہ بن چکا تھا۔ عارف الحسینی انقلابی نظریات سے صرف متاثر نہ ہوئے، وہ ان کا حصہ بن گئے۔ انہیں انقلابی اجتماعات میں شرکت پر گرفتار کیا گیا۔ ایرانی ایجنسیاں ان پر نظر رکھے ہوئے تھیں۔ جب شاہ کی حکومت کا تعفن پورے ایران میں پھیل چکا تھا، تو یہ مردِ حق گو بھی ان کے نشانے پر تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آپ کو ایران سے نکلنا پڑا۔ مگر یہ ہجرت، شکست نہ تھی۔ یہ اگلے مرحلے کا آغاز تھی۔ واپس پاکستان آ کر انہوں نے جامعہ جعفریہ پاراچنار میں تدریس کا آغاز کیا۔ وہ فقط معلم نہ تھے، وہ ایک رہبر تھے، جو اپنے ہر جملے میں انقلاب کی جھلک دیتے، اپنے ہر درس میں بیداری کی آہٹ رکھتے، اپنی ہر دعا میں امت کی نجات مانگتے۔ 1980ء میں جب قائد مفتی جعفر حسین رحمۃ اللہ علیہ نے اسلام آباد میں عظیم الشان تحریک برپا کی، تو علامہ عارف الحسینی اس کارواں کے ایک مرکزی کردار تھے۔ وہ صرف شریک نہ ہوئے بلکہ ایک بڑے وفد کی قیادت کی۔ ان کا انداز گفتگو، جذبہ، تنظیمی قوت۔ سب کچھ قوم کی نگاہوں کو خیرہ کر رہا تھا۔
پھر آیا وہ دن جس نے ملت کی تاریخ بدل دی۔ 10 جولائی 1984ء کو بھکر میں ملت جعفریہ پاکستان نے ان پر اعتماد کرتے ہوئے انہیں اپنا قائد چن لیا۔ یہ وہ لمحہ تھا، جب درس و تدریس کا چراغ قیادت کے مینار میں بدل گیا۔ عارف الحسینی اب فقط ایک عالم دین نہ تھے، وہ ایک تحریک، ایک سمت، ایک امید بن چکے تھے۔ وہ صرف ایک تنظیمی سربراہ نہ تھے، وہ کارواں ساز تھے۔ انہوں نے خوابوں کو لوری نہیں دی، انہیں راستہ دکھایا۔ قریہ قریہ، بستی بستی، نگر نگر۔۔ چاہے وہ گلگت بلتستان کے یخ بستہ پہاڑ ہوں، یا بلوچستان کے تپتے صحرا، چاہے سندھ کے گوٹھ ہوں، یا پنجاب کے چھوٹے دیہات، کوئی جگہ ایسی نہ رہی، جہاں علامہ عارف الحسینی کا فکر نہ پہنچا ہو۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ملک کے حالات گرد آلود تھے، سیاسی فضا پر آمریت کا سایہ، مذہبی طبقوں میں خندقیں اور ملت تشیع ایک کمزور آواز سمجھی جاتی تھی۔ ایسے میں انہوں نے علم و شعور کے بیج بوئے اور بیداری کی فصل کاشت کی۔ وہ کہتے تھے: "ہم صرف اپنی قوم کی بات نہیں کرتے، ہم ملتِ اسلامیہ کی وحدت کی بات کرتے ہیں۔”
جب حکمرانوں نے فرقہ واریت کی آگ کو ریاستی مفادات کی چنگاری سے ہوا دی، جب بھائی کو بھائی سے کاٹا گیا، تو یہ مردِ خدا وحدت کا پرچم لے کر اٹھا۔ اہلسنت علما، دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث، سب کو قریب لایا۔ ان کے ساتھ بیٹھا، مکالمہ کیا، محبت کا پیغام دیا۔ وہ بانی اتحاد بین المسلمین کہلائے اور یہ لقب ان کے کردار کا عکس تھا، کوئی سیاسی نعرہ نہیں۔ ہر اجتماع میں ان کے ساتھ اہلسنت علما و مشائخ نظر آتے۔ ان کی تقریریں وحدت کی خوشبو سے معطر ہوتیں۔ ان کی آنکھوں میں امت کے بکھرے وجود کو جوڑنے کی خواہش دکھائی دیتی۔ وہ کہتے تھے: "ہم دین کے نام پر لڑنے والوں کو دین کی اصل دعوت دیں گے، جو محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیغام ہے۔ اخوت، عدل اور حریت کا۔” مگر ان کا میدان فقط وحدت نہیں تھا۔۔ وہ سیاست میں بھی وہ آواز بنے جس کی گونج ضیاء الحق کے ایوانوں میں سنائی دی۔ انہوں نے ایک ایسا باب کھولا، جب ملت تشیع نے پہلی بار اپنی سیاسی شناخت منوائی۔ لاہور کے مینار پاکستان سے لے کر فیصل آباد، ملتان اور ڈیرہ اسماعیل خان تک، "قرآن و سنت کانفرنسز” کے ذریعے انہوں نے فقط تقریریں نہیں کیں، انہوں نے ایک سیاسی منشور دیا۔ ایسا منشور جو عوامی شعور کو بیدار کرنے لگا۔
شہید قائد کا یہ نظریہ تھا کہ پاکستان تب تک حقیقی معنوں میں آزاد نہیں ہوسکتا، جب تک وہ عالمی استعمار سے اپنے رشتے توڑ کر اپنی تقدیر کے فیصلے خود نہ کرے۔ وہ کہتے تھے: "ہمیں آزادی تو ملی مگر احساسِ آزادی چھین لیا گیا، کیونکہ سامراج کا چھوڑا ہوا نظام آج بھی ہمارے اوپر مسلط ہے۔” ان کا عقیدہ تھا کہ اسلام دو نہیں ہوسکتا۔ یا تو محمد مصطفیٰ (ص) کا اسلام ہوگا، یا پھر سامراج کا ایجنڈا۔ ان کی سیاست فقط کرسی یا اقتدار کی ہوس نہ تھی۔ ان کی سیاست شہادت کے خواب میں ڈھلی ہوئی ایک جدوجہد تھی۔ وہ کہتے تھے: "ہم اپنے خون کا آخری قطرہ بھی قربان کریں گے، مگر مقصد سے ایک انچ پیچھے نہیں ہٹیں گے۔”، "ہم کاسہ لیسی کی سیاست نہیں کریں گے، بلکہ مطالباتِ دین کے ساتھ میدانِ سیاست میں داخل ہوں گے۔” یہی وجہ تھی کہ وہ کسی سیاسی جماعت کے تابع نہ ہوئے، بلکہ خود ایک ایسی تحریک کے بانی بنے، جو عزت، غیرت، استقلال اور بیداری کا استعارہ بن گئی۔ انہوں نے اہل تشیع کو چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں ایک لڑی میں پرویا۔ ایک ایسی ملت جو بکھری ہوئی، خاموش اور بے حیثیت تھی۔ آج بڑے بڑے ریاستی فیصلوں میں نظر آنے لگی۔ یہ سب کچھ صرف ساڑھے چار برسوں میں ہوا۔ ان کا اصل ہتھیار تھا خلوص۔
ان کی اصل طاقت تھا علم و عمل کا امتزاج۔ ان کی اصل کشش تھا تقویٰ، دعا، گریہ اور شہادت کا شوق۔ نوجوان ان کے دیوانے تھے۔ علماء ان کے حلقہ بگوش اور عوام ان کے لیے سینہ سپر۔ جہاں وہ جاتے، بیداری کی لہریں دوڑ جاتیں۔ ہر تقریر، ہر خطاب، ہر نشست۔ انقلاب، بیداری، وحدت، اخوت، مزاحمت۔۔ ان کے لبوں پر فقط یہی نغمے تھے۔ وہ قائد جسے کسی کرسی کی خواہش نہ تھی، جس نے تخت نہیں تحریک اٹھائی، جس نے اپنے خلوص سے قوم کو بیدار کیا۔ وہ جہاں جاتے، نوجوان پروانوں کی طرح ان کے گرد گھومتے۔ ان کی تقریر، ان کی دعائیں، ان کی عبادات۔۔ سب میں وہ سچ بولتا تھا، جو دلوں پر اثر کرتا، ذہنوں کو جھنجھوڑ دیتا۔ ایک دن کسی اجتماع میں جب انہوں نے کہا: "ہم اپنے حقوق کے لیے اپنا خون بھی بہا دیں گے، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے” تو لوگوں کو لگنے لگا کہ یہ واقعتاً سچا فرزندِ حسین ابن علی ہے، جو وقت کے یزیدوں کے سامنے قیام کے لیے اٹھا ہے۔ ان کی قیادت میں ملت نے پہلی بار محسوس کیا کہ وہ بھی اس ملک کا حصہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سیاچَن کی برف پوش چوٹیوں سے کراچی کے ساحل تک، بلوچستان کے صحراؤں سے کشمیر کی حسین وادیوں تک، قوم ایک لڑی میں پرو دی گئی۔ وہ شخصیت جو کل تک تنہاء تھی، آج کارواں بن چکی تھی۔ مجالس ہوں یا سیمینار، مظاہرے ہوں یا تعلیمی ادارے، ہر جگہ ان کا نام، ان کا نقش، ان کی فکر گونج رہی تھی۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ استعمار ایسے چراغوں سے خائف ہوتا ہے۔ وہ قیادت جو عوام میں شعور بانٹتی ہے، وہ ہمیشہ سے دشمن کی آنکھ میں کھٹکتی ہے۔ ایسا ہی ہوا۔ پانچ اگست 1988ء فجر کا وقت، پشاور کا ایک معروف مدرسہ۔ جامعہ معارف الاسلامیہ، جہاں ایک مردِ خدا، باوضو اپنے رب سے ہمکلام ہونے کو تھا۔۔ جب اجرتی قاتل، دنیا کی سیاہ ترین سازش کے تحت خاموشی سے آئے۔۔ اور اس آفتابِ قیادت کو شہید کر دیا۔ زمین ساکت ہوگئی، آسمان نے بین کیا، اذان فجر ادھوری سی لگی۔ قائد شہید ہوچکا تھا۔۔
مگر۔۔ کیا چراغ گل ہوگیا؟
نہیں۔
ان کا خون بولنے لگا۔
ان کے افکار گونجنے لگے۔
ان کی شہادت نے ہزاروں سروں کو بلند کیا۔
جب ہم نے ان کا خون آلود چہرہ دیکھا، تو لگا کہ وہ ہمیں کچھ کہہ رہے ہیں۔۔
"میں گیا نہیں، میں تمہارے ہر حق کے نعرے میں ہوں، میں تمہاری ہر وحدت کی کوشش میں ہوں، میں تمہارے گریہ، تمہاری دعاؤں، تمہارے سجدوں میں ہوں۔
بس اپنے مقصد کو نہ چھوڑنا۔”
اور ہم گواہ ہیں۔۔
کہ وہ ایک سیدھی، بے باک، صاحبِ نفس، اور عارف بااللہ شخصیت تھے۔
ہم گواہ ہیں۔۔ کہ وہ اس ملت کی آخری امید، روشنی، خوشبو، اور قوت تھے۔ ہم گواہ ہیں۔۔
کہ انہوں نے اسلام ناب محمدی (ص)؛کا علم اٹھایا اور اسی کی راہ میں سرخ پیشانی کے ساتھ امر ہوگئے۔
آج ان کی شہادت کو 37 سال گزر گئے، مگر اب بھی جب کوئی نوجوان ظلم کے خلاف اٹھتا ہے،
جب کوئی آنکھ استعمار کو پہچانتی ہے، جب کوئی دل وحدت کیلئے دھڑکتا ہے، تو لگتا ہے جیسے وہاں قائدِ محبوب عارف الحسینی(رح) کی روح موجود ہے اور کہتی ہے۔۔
"میں زندہ ہوں، قرآن کے وعدے کے مطابق، راہِ خدا میں شہید ہونے والے کبھی مرتے نہیں۔”
شہید مظلام علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کا ہر لمحہ اخلاص، قربانی، شعور اور اسلامی بیداری سے لبریز تھا۔ انہوں نے نہ صرف ملت جعفریہ کو ایک نظریاتی بنیاد پر مجتمع کیا بلکہ امتِ مسلمہ کو سامراج، فرقہ واریت اور تکفیریت کے خلاف وحدت اور مزاحمت کا راستہ دکھایا۔ ان کی شہادت نے جسمانی موجودگی کو تو چھین لیا، لیکن ان کی فکر، کردار اور جدوجہد آج بھی زندہ و جاری ہے۔ "وہ جو شب زندہ دار تھا” ایک ایسے چراغ کی داستان ہے، جس نے اپنی روشنی سے دلوں میں انقلاب کی تپش پیدا کی اور جو آج بھی ہر باضمیر دل میں حق و حقیقت، وحدت اور آزادی کی چنگاری روشن کر رہا ہے۔


































