
پیارے بچو! امام زمانہ حضرت امام مہدی علیہ السلام ہمارے بارہویں امام ہیں۔ آپؑ کے والد حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اور والدہ ماجدہ جناب نرجس خاتون ہیں۔ آپؑ کی ولادت 15 شعبان بروز جمعہ بوقت طلوع فجر واقع ہوئی ہے۔آپؑ اپنے آباؤ اجداد کی طرح امام معصوم، اعلم زمانہ اور افضل کائنات ہیں۔ آپؑ بچپن ہی میں علم وحکمت سے بھرپور تھے۔
آپؑ کا اسم گرامی:
آپؑ کا نام ”محمد“ اور مشہور لقب ”مہدی“ ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ آپؑ کا نام زبان پرجاری کرنے کی ممانعت ہے علامہ مجلسی ؒاس کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”حکمت آن مخفی است“ اس کی وجہ پوشیدہ اورغیرمعلوم ہے۔ علماء کا بیان ہے کہ آپؑ کایہ نام خود حضرت محمد مصطفی ؐنے رکھا تھا۔ ”آنحضرت ؐنے فرمایا کہ میرے بعد بارہ خلیفہ قریش سے ہوں گے آپؐ نے فرمایا کہ آخر زمانہ میں جب دنیا ظلم وجورسے بھرجائے گی، تو میری اولاد میں سے مہدی کا ظہور ہو گا جو ظلم وجور کو دور کرکے دنیا کو عدل وانصاف سے بھردے گا۔ شرک وکفر کو دنیا سے نابود کردے گا، نام ”محمد“ اورلقب ”مہدی“ ہوگا حضرت عیسی ؑآسمان سے اتر کر اس کی نصرت کریں گے اوراس کے پیچھے نماز پڑھیں گے،اوردجال کوقتل کریں گے“۔
آپ ؑکی کنیت اورالقاب:
آپؑ کی کنیت ”ابوالقاسم“ اور”ابوعبداللہ“ ہے۔ اوراس پربھی علماء متفق ہیں کہ ابوالقاسم کنیت خود سرورکائنات ؐکی تجویزکردہ ہے۔ آنحضرتؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ مہدی کا نام میرا نام اوران کی کنیت میری کنیت ہوگی۔
آپؑ کے القاب مہدی، حجۃ اللہ، خلف الصالح، صاحب العصر، صاحب الامر، والزمان، القائم، الباقی اورالمنتظرہیں۔
تین سال کی عمرمیں حجت اللہ:
علامہ اربلی لکھتے ہیں کہ احمد ابن اسحاق اورسعدالاشقری ایک دن حضرت امام حسن عسکریؑ کی خدمت میں حاضرہوئے اور انھوں نے خیال کیا کہ آج امام علیہ السلام سے یہ دریافت کریں گے کہ آپ ؑکے بعد حجت اللہ فی الارض کون ہوگا، جب سامنا ہوا تو امام حسن عسکری ؑنے فرمایا کہ اے احمد! تم جو دل میں لے کرآئے ہو میں اس کا جواب تمہیں دیئے دیتا ہوں، یہ فرما کرآپ ؑاپنے مقام سے اٹھے اوراندر جاکر یوں واپس آئے کہ آپؑ کے کندھے پرایک نہایت خوب صورت بچہ تھا، جس کی عمرتین سال کی تھی۔ آپؑ نے فرمایا کہ اے احمد! میرے بعد حجت خدا یہ ہوگا اس کا نام محمد اوراس کی کنیت ابوالقاسم ہے یہ خضرکی طرح زندہ رہے گا۔ اور ذوالقرنین کی طرح ساری دنیا پرحکومت کرے گا۔ احمدبن اسحاق نے کہا مولا! کوئی ایسی علامت بتا دیجئے کہ جس سے دل کو اطمینان کامل ہوجائے۔ آپؑ نے امام مہدیؑ کی طرف متوجہ ہوکرفرمایا، بیٹا! اس کو تم جواب دو۔ امام مہدی علیہ السلام نے کمسنی کے باوجود بزبان فصیح فرمایا : ”اناحجۃ اللہ وانا بقےۃاللہ“۔ میں ہی خدا کی حجت اورحکم خداسے باقی رہنے والا ہوں، ایک وہ دن آئے گا جس میں دشمن خدا سے بدلہ لوں گا، یہ سن کراحمد خوش ومسرور اور مطمئن ہوگئے۔
پانچ سال کی عمرمیں خاص الخاص اصحاب سے آپ ؑکی ملاقات:
یعقوب بن منقوش ومحمد بن عثمان عمری وابی ہاشم جعفری اورموسی بن جعفربن وہب بغدادی کا بیان ہے کہ ہم حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اورہم نے عرض کی مولاؑ! آپ ؑکے بعد امرامامت کس کے سپرد ہوگا اورکون حجت خدا قرار پائے گا۔ آپؑ نے فرمایا کہ میرا فرزند محمدؑ میرے بعد حجت اللہ فی الارض ہوگا ہم نے عرض کی مولا ہمیں ان کی زیارت کروا دیجئے آپ ؑنے فرمایا وہ پردہ جو سامنے آویزاں ہے اسے اٹھاؤ۔ ہم نے پردہ اٹھا یا، تواس سے ایک نہایت خوب صورت بچہ جس کی عمرپانچ سال تھی برآمد ہوا، اور وہ آکر امام حسن عسکری ؑکی آغوش میں بیٹھ گیا۔ ا مامؑ نے فرمایا کہ یہی میرا فرزند میرے بعد حجت اللہ ہوگا۔
محمد بن عثمان کا کہناہے کہ ہم اس وقت چالیس افراد تھے اورہم سب نے ان کی زیارت کی۔ امام حسن عسکریؑ نے اپنے فرزند امام مہدی ؑکوحکم دیا کہ وہ اندر واپس چلے جائیں۔ اورہم سے فرمایا: کہ اب تم آج کے بعد پھراسے نہ دیکھ سکو گے۔ چنانچہ ایساہی ہوا، پھرغیبت شروع ہوگئی۔
امام حسن عسکری ؑکی شہادت:
امام مہدی علیہ السلام کی عمر ابھی صرف پانچ سال کی تھی کہ خلیفہ وقت نے مدتوں قید رکھنے کے بعد امام حسن عسکری ؑکوزہردیدیا۔ جس کی وجہ سے آپ ؑبتاریخ ۸ ربیع الاول 260 ہجری رحلت فرما گئے۔ آپ ؑنے اولاد میں صرف امام مہدی ؑکوچھوڑا۔
۸ ربیع الاول کوامام حسن عسکریؑ کی شہادت ہوئی اور ۹ ربیع الاول سے حضرت حجت ؑکی امامت کا آغازہوا۔ ہم ۹ ربیع الاول کو جو خوشی مناتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ علامہ مجلسی لکھتے ہیں کہ ۹ ربیع الاول کو عمربن سعد(کربلا میں یزیدی فوج کاسپہ سالار) مختارثقفی کے ہاتھوں قتل ہوا۔ جس کے قتل کے بعد آل محمدؑ نے پورے طورپرخوشی منائی۔
حضرت امام مہدی علیہ السلام کی غیبت اوراس کی ضرورت:
بادشاہ وقت جو اپنے آباؤاجداد کی طرح ظلم وستم کاخوگراورآل محمد ؑکاجانی دشمن تھا۔ اس کے کانوں میں مہدی ؑکی ولادت کی بھنک پڑچکی تھی۔ اس نے حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام کی شہادت کے بعد اور تدفین سے پہلے بقول علامہ مجلسی ؒامام حسنؑ کے گھرپرپولیس کا چھاپہ ڈلوایا اورچاہا کہ امام مہدی علیہ السلام کو گرفتار کرلے لیکن آپؑ بحکم خدا پہلے ہی غائب ہو چکے تھے۔
حاکم وقت حضرت سرور کائنات ؐکی پیشن گوئی سے خائف تھا کہ آخری زمانہ میں میرا ایک فرزند جس کا نام مہدی ہوگا۔ کائنات عالم کے انقلاب کا ضامن ہوگا۔ اوراسے یہ معلوم تھا کہ وہ فرزند امام حسن عسکری علیہ السلام کی اولاد سے ہوگا لہذا اس نے آپ ؑکی تلاش اورآپؑ کے قتل کی پوری کوشش کی۔
امام مہدی ؑکی غیبت کی وجہ:
۱) اللہ تعالی نے انسانوں کی ہدایت کے لئے ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر بھیجے۔ پیغمبروں میں سب سے آخر حضور رسول کریم ؐتشریف لائے تھے۔ لہذا تمام نبیوں کی جملہ صفات وکمالات ومعجزات حضرت محمد مصطفی ؐمیں جمع کردئیے تھے اورآپ ؐکو خدا نے تمام انبیاء کے صفات کا جلوہ گربنایا بلکہ خود اپنی ذات کا مظہر قراردیا تھا اورچونکہ آپؐ کو بھی اس دنیائے فانی سے ظاہری طور پر جانا تھا اس لئے آپؐ نے اپنی زندگی ہی میں حضرت علیؑ کو ہرقسم کے کمالات سے بھرپور کردیا تھا یعنی حضرت علی ؑ اپنے ذاتی کمالات کے علاوہ نبوی کمالات سے بھی ممتازہوگئے تھے۔سرور کائنات ؐکے بعد کائنات عالم میں صرف ایک علی ؑکی ہستی تھی جو کمالات کی حامل تھی آپ ؑکے بعد سے یہ کمالات اوصیا میں منتقل ہوتے ہوئے امام مہدی ؑتک پہونچے۔ بادشاہ وقت امام مہدی ؑکو قتل کرنا چاہتا تھا اگر وہ قتل ہوجاتے تو دنیا سے انبیاء، و اوصیاء کا نام ونشان مٹ جاتا اورسب کی یادگارایک تلوارسے ختم ہوجاتی۔ اور چونکہ انبیاء ہی نے انسانوں کو خداوند عالم سے روشناس کرایا تھا لہذا اس کا بھی ذکر ختم ہو جاتا اس لئے ضرورت تھی کہ ایسی ہستی کو محفوظ رکھا جائے جو جملہ انبیاء اوراوصیاء کی یادگاراورتمام کے کمالات کی مظہرہو۔
۲) اللہ نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے ”وجعلھا کلمۃ باقےۃ فی عقبہ“ ابراہیم ؑکی نسل میں کلمہ باقیہ قراردیا ہے۔ نسل ابراہیم ؑدو فرزندوں سے چلی ہے ایک حضرت اسحاق ؑاوردوسرے حضرت اسماعیلؑ۔ حضرت اسحاق ؑکی نسل سے خداوندعالم جناب عیسیؑ کو زندہ و باقی قراردے کر آسمان پرمحفوظ کرچکے تھے۔ اب بہ مقتضائے انصاف ضرورت تھی کہ نسل اسماعیل سے کسی ایک کو باقی رکھے اور وہ بھی زمین پر کیونکہ آسمان پرایک باقی موجود تھا،لہذا امام مہدی ؑکوجو نسل اسماعیل سے ہیں زمین پرزندہ اورباقی رکھا اورانھیں بھی اسی طرح دشمنوں کے شرسے محفوظ کردیا جس طرح حضرت عیسی ؑکو محفوظ کیا تھا۔
۳) یہ مسلمات اسلامی سے ہے کہ زمین حجت خدا اورامام زمانہ سے خالی نہیں رہ سکتی۔ چونکہ حجت خدا اس وقت امام مہدیؑ کے سوا کوئی نہ تھا اورانھیں دشمن قتل کردینے پرتلے ہوئے تھے اس لئے انھیں محفوظ کردیاگیا۔ حدیث میں ہے کہ حجت خدا کی وجہ سے بارش ہوتی ہے اورانھیں کے ذریعہ سے روزی تقسیم کی جاتی ہے (بحار)۔
۴) قیامت کا آنا یقینی ہے اورواقعہ قیامت میں امام مہدی ؑکا ذکر بتاتاہے کہ آپ ؑکی غیبت مصلحت خداوندی کی بناء پرہوئی ہے۔
۵) سور ہ اناانزلنا سے معلوم ہوتا ہے کہ نزول ملائکہ شب قدرمیں ہوتا رہتا ہے یہ ظاہر ہے کہ نزول ملائکہ انبیاء واوصیاء ہی پرہواکرتا ہے۔ امام مہدی ؑکو اس لئے موجود اور باقی رکھا گیا ہے تاکہ نزول ملائکہ کی مرکزی غرض پوری ہوسکے،اورشب قدرمیں انھیں پرنزول ملائکہ ہوسکے حدیث میں ہے کہ شب قدرمیں سال بھرکی روزی وغیرہ امام مہدی ؑتک پہونچادی جاتی ہے اوروہی اسے تقسیم کرتے ہیں۔
۶) امام جعفرصادق علیہ السلام کا فرمانا ہے کہ امام مہدی ؑکواس لئے غائب کیا جائے گا تاکہ خداوندعالم اپنی ساری مخلوق کا امتحان کرکے یہ جانچے کہ نیک بندے کون ہیں اورباطل پرست کون لوگ ہیں (اکمال الدین)۔
امام غائب کاہرجگہ حاضرہونا:
احادیث سے ثابت ہے کہ امام علیہ السلام ہرمقام پر پہونچتے اورہرجگہ اپنے ماننے والوں کے کام آتے ہیں۔ علماء نے لکھا ہے کہ آپؑ بوقت ضرورت اپنے ماننے والوں سے ملتے ہیں۔ لوگ انھیں دیکھتے ہیں یہ اوربات ہے کہ انھیں پہچان نہ سکیں۔


































