
تحریر: سویرا بتول
یہ شب کا نصف پہر تھا، نیند اُس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور کئی ساعتیں اُس نے بستر پر کروٹیں بدلتے گزار دیں۔ آج سے چند روز بعد سفیرِ انقلاب کی برسی تھی اور وہ جانتی تھی کہ امسال بھی گذشتہ سالوں کی طرح ہوگا۔ ہمیشہ کی طرح چند انقلابی ترانے لگاٸے جاٸیں گے، ڈاکٹر کا نعرہ یاد ہے کہ جملوں سے دشمن کو للکارا جاٸے گا اور شہید کے قریبی رفقاء چند ایک واقعات گوش گزار کریں گے اور ہم خود کو انقلابی اور نظریاتی سمجھ کر، دامن جھاڑ کر اپنے اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاٸیں گے، گویا ہم نے شہید کا حق ادا کر دیا۔ وہ بہت چھوٹی تھی، جب شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی تصویر سے مانوس ہوٸی۔ اُس نے شہید سفیر انقلاب کو دیکھا تو نہ تھا، مگر جو کچھ شہید کے بارے میں سنا تھا، ایک عجیب طرح کا عشق و عقیدت اُس کے وجود میں سرایت کر گیا تھا۔ اُس کے گھر میں موجود شہداء وال پر سب سے بڑی تصویر سفیر انقلاب کی تھی۔
سفیرِ انقلاب کو اگر پاسبانِ ولایت کہا جاٸے تو غلط نہ ہوگا۔ شہید نے جس جانفشانی سے راہِ امام (ع) میں کام کیا، شاید ہم اُس کا عشرہ عشیر بھی بیان نہ کر سکیں۔ شہید کا مشہور جملہ ہے کہ *حق کی تلاش اور پہچان کے بعد ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھنا حق کی توہین ہے۔* یہ جملہ اکثر اُسے مضطرب رکھتا۔ کیا ہم حق جاننے کے بعد بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے؟ ہم نے راہِ امام میں کتنی صعوبتیں برداشت کیں؟ کیا وہ عہد و پیمان جو شہداء کے لہو سے کیے، کیا وہ وفا کر رہے ہیں؟ یہ سوالات تھے، جن کے جوابات اُس کے پاس نہ تھے۔ شہید محمد علی نقوی کی شخصيت کا ایک پہلو اُسے حد درجہ پسند تھا اور یہی پہلو ہر گزرتے وقت کے ساتھ اُسے مزید ذمہ دار بنا رہا تھا۔
شہید کی شخصيت کے بہت سارے پہلو قابل تذکر ہیں، مگر حق شناسی اور فرض شناسی کا عنصر شہید محمد علی نقوی میں حد درجہ موجود تھا۔ جب شہید نے امام خمینی (رہ) کا یہ جملہ سنا کہ کون ہے، جو سرزمینِ آلِ سعود میں مشرکین سے برإت کرے تو شہید فوراً سرزمینِ آل سعود پہنچے اور مشرکین سے اعلان برإت کیا، یہ جانتے ہوٸے بھی کہ آپ کو اسیر کر لیا جاٸے گا، مگر وہ اپنے فرض سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ ممکن تھا کہ شہید یہ عذر پیش کرتے کہ میں اس وقت پاکستان میں موجود ہوں اور یہاں مکتب کے فراٸض بخوبی انجام دے رہا ہوں، اب مجھ پر کوٸی ذمہ داری عاٸد نہیں ہوتی، مگر امام خمینی (رہ) کے ایک فرمان پر بر وقت فیصلہ سازی شہید کی شخصيت کو پاسبانِ ولایت کے عنوان سے واضح کرتی ہے۔ یہ ولایت کی پاسبانی ہی تھی کہ شہید محمد علی نقوی نے امام خمینی (رہ) کی ایک پکار پر لبیک کہا۔
مزید یہ کہ آپ نے جیسے ہی ایران عراق جنگ کے بارے میں BBC کی خبر سنی تو فوراً ایران چلے گئے، اگرچہ اُس وقت شہید کے بیٹے(دانش نقوی) ابھی چند ماہ کے تھے۔ فرض شناسی اس قدر شخصيت کا خاصہ تھی کہ 24 گھنٹوں میں خود کو دفاع مقدس کے لیے ایران پہنچایا۔ وہاں جہاں کر اس قدر مریضوں کی تیمارداری کی کہ پریشان دکتر کے نام سے جانے گئے۔ کیا آج خود کو فرزندانِ شہید کہلانے والے اس قدر حق شناس، فرض شناس اور مدافعینِ ولایت ہیں۔؟ یہاں ہم مدافعین حرم کا نام لیتے ہیں اور وہاں فرزندانِ شہید مصلحت کی باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہمیں یاد ہیں، وہ تمام احباب جن کے ساتھ ملکر شہداٸے مدافعینِ حرم پر کام کیا اور جو صبح شام شہادت کا راگ الاپتے تھے، آج یہ کہہ کر رابطے منقطع کر گئے ہیں کہ آپ کی شخصيت حساس ہے۔ شہداء کے نام پر حساسیت ہے یا ہم نے قاٸم کی؟ کیا یہی ہے شہید پاسبان ولایت محمد علی نقوی سے عشق کے دعوے؟ کیا یہی ہیں فرزندان و دخترانِ شہید محمد علی نقوی۔؟
شہید محمد علی نقوی نے اپنا پاکیزہ لہو اسی ولایت فقیہ کے دفاع کے لیے دیا، آج پاکستان میں ولایت فقیہ پر سوال اٹھاٸے جا رہے ہیں، پیروان شہید اور خط امام کے دعویدار آج کہاں ہیں؟ اس نظریہ ولایت فقیہ کے دفاع کے لیے کیا عملی اقدامات کئے گئے ہیں؟ کیا آج کے پاسبانِ ولایت میدانِ عمل میں ہیں؟ آپ کے سامنے آپ کے وطن عزیز میں ولایت فقیہ پر ہرزہ سرائی کی جاتی ہے، ریبر معظم کی تصاویر یہ کہہ کر ہٹا دی جاتیں ہیں کہ کہیں ہم ایرانی نہ کہلائے جائیں۔ مجتہدین پر جملے کسے جاتے ہیں، آپ نے عملاً کیا اقدامات کیے؟ وہ فرض شناسی جو شہید محمد علی نقوی کی شخصیت کا خاصہ تھی، آج فرزندان شہید میں نظر کیوں نہیں آتی۔؟ ہم اتنی بھی بصیرت نہیں رکھتے کہ شہدائے مدافعینِ حرم کے نام پر قائم اس حساسیت کو کم کرسکیں یا نظریہ ولایت فقیہ کا دفاع کرسکیں؟ کیا چند انقلابی ترانے، نعرے اور جوش خطابت میں کی گئی تقاریر ہمیں شہداء کے سامنے سرخرو کرسکیں گی۔؟


































