
قم : مرجع تقلید اور بزرگ عالم دین آیت الله العظمی لطف الله صافی گلپائیگانی دار فانی سے کوچ کر گئے۔ انہیں چند روز قبل طبی معائنے کیلئے قم کے آیت الله گلپائیگانی اسپتال میں داخل کیا گیا تھا جہاں وہ گذشتہ شب حرکتِ قلب بند ہونے سے انتقال کرگئے۔
آیت الله العظمی لطف الله صافی گلپائیگانی 19 فروری سنہ 1918 کو ایران کے شہر گلپایگان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ محمد جواد صافی مرحوم کا شمار اپنے زمانہ کے بزرگ علماء میں ہوتا تھا اور انہوں نے فقہ، اصول، کلام، اخلاق، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں۔ آپ کی والدہ مرحومہ بھی ایک صاحب علم اور ذی استعداد خاتون ہونے کے ساتھ مداح اہلبیت (ع) بھی تھیں مرحوم آیت اللہ صافی نے ادبیات، کلام، تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول کی ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن گلپایگان میں قطب کے نام سے معروف جلیل القدر عالم دین سے حاصل کی اور پھر اپنے والد محترم کے پاس تعلیم و تزکیہ میں مشغول رہے۔ قم مقدس میں اعلیٰ تعلیم کے لئے تشریف لائے، اس زمانہ کے بزرگ علماء اور مراجع کرام سے کسب فیض کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی تحقیقات میں بھی مشغول رہے اور کچھ عرصہ نجف اشرف امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں رہ کر بھی خود کو علم و فضل سے آراستہ کیا۔ انہوں نے آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری، سید محمد حجت کوہ کمری، سید صدر الدین صدر عاملی، سید محمد حسین بروجردی، سید محمد رضا گلپایگانی، محمد کاظم شیرازی ، سید جمال الدین گلپایگانی اور شیخ محمد علی کاظمی رحمت اللہ علیہم جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا
شیخ المراجع کے نام سے معروف آیت اللہ العظمیٰ شیخ صافی گلپائیگانی فقہ، اصول، کلام، تفسیر، اخلاق، حدیث، تاریخ اسلام وغیرہ میں سینکڑوں تصنیفات کے حامل رہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اشعار کا ایک دیوان بھی مرتب کیا۔


































