
اسلام آباد: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے موٹر سائیکل اور رکشا چلانے والوں کو رعایتی پٹرول کی فراہمی کا اصولی فیصلہ کیا ہے جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 10 لاکھ افراد کو رمضان المبارک میں مفت آٹا فراہم کیا جائیگا۔ وزیرِاعظم کی زیرِصدارت غریب و متوسط طبقے کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلیے اقدامات پر اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کو موٹر سائیکل اور رکشہ والوں کیلیے رعایتی پٹرول پر بھی بریفنگ دی گئی، اجلاس کو اس حوالے سے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیرِ اعظم نے پروگرام کو حتمی شکل دے کر جلد پیش کرنیکی ہدایت کی۔شہباز شریف نے کہا کہ موٹر سائیکل اور رکشہ والے معاشی طور پر کمزور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور حکومت ان کو مہنگائی سے بچانے کیلیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں موٹرسائیکل سواروں کو 25 سے 50 روپے لیٹر سستا پٹرول دینے پر غور کیا گیا، حکومت سالانہ 150ارب روپے کی سبسڈی کے ذریعے سستا پٹرول فراہم کرنا چاہتی ہے اور آئی ایم ایف کے اعتراض سے بچنے کیلئے سبسڈی کی رقم کار مالکان سے وصول کرنے کا منصوبہ ہے۔ اجلاس میں تجویز دی گئی کہ کار مالکان کیلئے پٹرول قیمت بڑھا کر 300 سے 325روپے لیٹر جبکہ موٹر سائیکل سواروں کیلئے قیمت کم کر کے 225 سے 250 روپے لیٹر کر دی جائے۔ سستا پٹرول دینے کیلئے ابھی کوئی میکنزم طے نہیں کیا گیا تاہم صارفین کو پری پیڈکارڈز یا نقد رقم دینے کے آپشنز زیر غور ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ موٹرسائیکل والوں کو مہینے میں کم از کم ایک ہزار روپے کی پٹرول سبسڈی دی جانی چاہئے۔ ذرائع کے مطابق حکومت آئی ایم ایف اور اپنے ووٹرز کیساتھ جوا کھیل رہی ہے کیونکہ نہ تو آئی ایم ایف اس تجویز کی حمایت کر سکتا ہے اور نہ ہی کار مالکان اضافی رقم دینے پر راضی ہوں گے اور یہ امتیازی اقدام عدالتوں میں چیلنج ہو سکتا ہے۔


































