
تحریر: محمد کاظم
رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے یورپ میں اسلامی انجمنوں کے متحدہ فورم کے نام اپنے پیغام میں فرمایا: "ان دنوں رونما ہونے والے سیاسی اور فوجی واقعات اسی عالمی تاریخی موڑ کا حصہ ہیں جس کی توقع کی جا رہی تھی۔” عالمی سطح پر حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ جدید روس کو سمجھنے کیلئے روسی فلسفی اور ماہر سماجیات اور ماسکو یونیورسٹی کے فلسفہ و علم سیاسیات شعبے کے پروفیسر الیگزینڈر ڈاگن کے نظریات کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے "یورپ – جدید ایشیا” نامی نظریہ پیش کیا ہے جس میں کہا ہے: "روس ثقافتی لحاظ سے مشرق سے تعلق رکھتا ہے اور اسے مغرب کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا چاہئے۔ روس کو اپنا یہ قیام ایک جگہ سے شروع کرنے کی ضرورت ہے۔”
وہ مزید کہتے ہیں: "اس وقت روس میں ایک سماجی سیاسی تحریک پائی جاتی ہے جس کی بنیاد یورایشیا کی جانب رجحان پر استوار ہے اور اسے روسی روشن خیال شخصیات کی حمایت حاصل ہے۔ سابق سوویت یونین کے زوال کے بعد روسی حکام نے امریکہ کی سربراہی میں عالمی برادری میں ضم ہونے کی کوشش کی لیکن ایسا نہ ہو سکا اور ایسا ممکن بھی نہیں ہے۔ لہذا تیسرے ہزارے میں ولادیمیر پیوٹن کی سربراہی میں روسی حکام عالمی سیاست کے میدان میں جاری رسہ کشی میں شامل ہو گئے۔ امریکی حکمرانوں نے جھوٹ، دھوکے اور فریبکاری کے ذریعے پانچ مراحل میں نیٹو کو روس کی سرحدوں تک پہنچا دیا اور انہوں نے اس کام میں تمام سکیورٹی معاہدوں کی خلاف ورزی کر دی۔” امریکی حکمران سوچ رہے تھے کہ روس ان کے اس اقدام کے مقابلے میں مزاحمت کا مظاہرہ نہیں کرے گا اور خاموش تماشائی بنا رہے گا۔
امریکہ کے فوجی اسٹریٹجک ماہرین یہ توقع ظاہر کر رہے تھے کہ روس مزید 5 ریاستوں میں تقسیم ہو جائے گا اور یہ واقعہ رونما ہونے کے بعد دنیا مغرب کیلئے ہمیشہ کیلئے پرامن ہو جائے گی۔ ان کی نظر میں ایسے وقت دنیا کے اس کونے میں موجود روس ان کیلئے کسی قسم کا خطرہ ثابت نہیں ہو پائے گا۔ دوسری طرف ماسکو کی جانب سے صبر کا مظاہرہ اور خاموشی نے امریکیوں کی لالچ میں مزید اضافہ کر دیا اور وہ روس نامی حریف سے عاری دنیا قائم کرنے کیلئے مزید سرگرم ہو گئے۔ روس نے یوکرین پر حملہ کر کے کیف میں اپنی قومی سلامتی کے دفاع کا پرچم لہرا دیا ہے اور امریکہ اور یورپ کو ایٹمی جنگ کی دھمکی تک آگے آیا ہے۔ بعض حلقے اس بات کا اظہار کر رہے ہیں کہ یوکرین پر حملہ کر کے روس امریکہ کے جال میں پھنس گیا ہے لیکن یہ ایک بے بنیاد دعوی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ روس نے اپنی قومی سلامتی کا دفاع کر کے عالمی حالات میں ایک نیا باب کھول دیا ہے اور سرد جنگ کے خاتمے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اس وقت ہم مغرب میں شدید ٹکراو کی کیفیت کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور امریکی حکام کی جانب سے کسی قسم کی حماقت کا مظاہرہ، یورپ کو روایتی جنگ سے آگے بڑھا کر ایٹمی جنگ کی آگ میں جھونک دے گا۔ یوکرین کی جنگ، دنیا پر امریکی تسلط اور اثرورسوخ کے وہم کا خاتمہ اور بین الاقوامی تعلقات عامہ میں نئے باب کا آغاز ہے۔ کسی کو یہ بات اچھی نہ لگے یا نہ لگے اور کوئی چاہے یا نہ چاہے لیکن اس حقیقت کا انکار ممکن نہیں کہ عالمی سطح پر طاقت کی مساواتیں تبدیل ہو چکی ہیں۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کہتے ہیں: "یوکرین کی جنگ روس کی قومی سلامتی کو درپیش خطرات کا ردعمل ہے۔”
وہ مزید کہتے ہیں: "ہم نیٹو کا مشرق کی جانب پھیلاو قبول نہیں کر سکتے۔ آپ نے پانچ مرحلوں میں نیٹو کو ہماری سرحدوں تک پھیلا دیا ہے۔ ہم نے مغرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا لیا ہے لیکن دوسری طرف سے ہمیں جھوٹ، دھوکے اور سازشوں کے علاوہ کچھ نصیب نہیں ہوا۔ آپ نے 1990ء میں کہا کہ ہم حتی ایک انچ روس کے شہروں کی جانب آگے نہیں بڑھیں گے لیکن آپ آگے بڑھے۔ ہم یوکرین میں ایک خطرے کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہم اپنی قومی سلامتی کے تحفظ میں مصروف ہیں۔ ہم روس کو سائبیریا کے ایک چھوٹے سے ملک میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔” ہم عالمی رہنماوں کی جانب سے صدر پیوٹن کی اپنی قومی سلامتی کے دفاع پر مبنی منطق سمجھنے کو دور از امکان تصور کرتے ہیں۔
امریکہ اور یورپ، افغانستان میں شکست اور شام اور عراق میں بے بس ہونے کے بعد اب کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی طاقت نہیں رکھتے۔ خاص طور پر اس وقت جب امریکہ اور یورپی ممالک کے بڑے شہروں میں بڑی تعداد میں شہری فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ آج دنیا ایک اہم تاریخی موڑ سے گزر رہی ہے۔ عنقریب عالمی سطح پر طاقت کا توازن مغرب سے مشرق کی جانب منتقل ہونے والا ہے۔ یہ ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک حقیقت ہے جسے دیکھنے اور محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ مستقبل میں وہ اقوام فاتح اور کامیاب قرار پائیں گی جو اس حقیقت کو بھانپ کر اس کے مطابق اہم اور اسٹریٹجک فیصلے کر پائیں گی اور جو بھی آج اس حقیقت سے غافل ہو گا اس کا مستقبل تاریک ہو جائے گا۔


































