
گلگت : گلگت شہر سمیت درجن بھر دیگر مقامات پر احتجاجی دھرنے آٹھ روز سے جاری ہے۔ احتجاجی دھرنوں میں سینکڑوں مرد و خواتین شریک ہیں۔ 14 اسیروں کی رہائی کے لیے ورثا کی جانب سے سڑکیں بند کر کے احتجاجی مظاہروں اور اندرون شہر خواتین کی جانب سے مختلف چوک چوراہوں کو بند کر کے احتجاجی دھرنے دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ اس دوران دھرنوں کے شرکا اور مظاہرین اپنے پیاروں کی رہائی کے لئے نعرہ بازی کررہے ہیں۔ اسیروں کی رہائی کے لیے کیپٹن ضمیر عباس شہید چوک پر خواتین اور مردوں نے احتجاجی دھرنا دیا جبکہ ریور ویو روڈ امپھری‘ خزانہ روڈ‘ شاہراہ قائد اعظم خومر اور دنیور چوک‘ سمیت دیگر مقامات پر خواتین و مردوں نے دھرنے دیئے مظاہرین کا موقف ہے کہ ہمارے پیاروں کو بے جرم و خطا قید و بند کی صعوبتیں دی جارہی ہیں۔ صوبائی حکومت اور مقامی انتظامیہ کی جانب سے خاموشی حیران کن ہے۔ تپتی دھوپ اور راتوں کو سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں مگر حکومت کے سر پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ جو کہ انتہائی افسوس کا مقام ہے۔خواتین مظاہرین کا کہنا تھا کہ ایک سال قبل صوبائی حکومت کی جانب سے ایک کمیٹی قائم کر کے اسیروں کی رہائی کے لئے اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی گئی ایک سال کا طویل عرصہ گزرا مگر حکومتی کمیٹی کا کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا جس کی وجہ سے سڑکوں پر نکل کر احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ جب تک ہمارے بے قصور اسیروں کو رہا نہیں کیا جاتا تب تک سڑکوں سے نہیں ہٹیں گے دھرنے میں شریک امجد چنگیزی نےبتایاکہ 13 اکتوبر 2005ء کو اسکول کے طلبہ کے احتجاج پر رینجرز نے لاٹھی چارج کیا، جس کے بعد فسادات ہو گئے اور کئی گھنٹے تک جاری رہنے والے فائرنگ کے نتیجے میں 2 رینجرز اہلکار اور 2 خواتین سمیت 7 سویلین ہلاک ہو گئے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ انکا کہنا تھا کہ اس واقع کے بعد ایک شیعہ مسلک کی مسجد کو بھی مسمار کیا گیا اور تحقیقات کرنے کے بغیر 14 بے گناہ افراد کو حراست میں لیکر انسداد دہشت گردی عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا۔گلگت بلتستان گزشتہ دس دنوں سے دھرنوں کی وجہ سے جام ہے پر صوبائی حکومت ٹس سے مس نہیں ہوئی، تجارتی مراکز بند ہیں،ہزاروں سیاح سڑکوں کی بندش سے پریشان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ گلگت اسکردو روڑ اور ہنزہ روڑ بند ہونے کی وجہ سے ہزاروں سیاح پھنسے ہوئے ہیں۔


































