
گلگت : مذہبی جماعتوں کی مخالفت کے باوجود گلگت میں 5 اکتوبر سے شروع ہونے والے متنازع خواتین اسپورٹس گالا کے ایس او پیز جاری کردیے گئے ہیں۔ ایس اوپیز کے مطابق تمام ایونٹس کی آرگنائزر خواتین ہوں گی۔ کسی بھی وینو میں مردوں کا داخلہ ممنوع ہوگا۔ لالک جان گراﺅنڈ اور دوسرے تمام گراﺅنڈز کو بند کیاجائے گا۔ کھلاڑیوں کے لئے اسکارف، فل بازو شرٹ اور جوگر لازمی قرار دیا گیا ہے۔ کسی بھی مرد کو کوئی تصویر اور ویڈیو بنانے پر پابندی ہوگی۔ دوران کھیل ریفری کرنے، کھیل کھلانے اور تمام ایونٹ خواتین خود کنڈکٹ کریں گی۔ چیف گیسٹ بھی خواتین ہوں گی اور میزبان بھی خواتین خود ہی ہوں گی۔
گراﺅنڈ کے اندر اور گراﺅنڈ کے باہر بھی خواتین پولیس سیکیورٹی ڈیوٹی پر معمور ہونگی۔ خاتون پولیس آفیسر سیکیورٹی کی انچارج ہونگی۔ ۔ کسی بھی سرکاری آفیسر خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو خواتین کے ایریا میں جانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ گانا گانے اور میوزک کی اجازت نہیں ہوگی۔ گلگت بلتستان کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے ویمن اسپورٹس گالا کی شدید مخالفت کی جا رہی ہے۔ تنظیم اہلسنت کے علاوہ جماعت اسلامی، اسلامی تحریک اور جے یو آئی نے اسپورٹس گالا کی شدید مخالفت کی ہے۔


































